شہادت امام علی نقی علیہ السلام

3 رجب شہادت حضرت امام علی نقی علیہ السلام

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر ہماری اور ہماری فیملی رسول اللَّه، خانوادہ رسول ع اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کی خدمت میں ہدیہ تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں خصوصا اپنے وقت کے امامِ عصر عج کو انکے جد کا پرسہ پیش کرتے ہیں

امام کی شہادت کے موقع پہ ان کی ایک بہت اہم حدیث:
حدیث میں بیان ہوا ہے کہ امام علی نقی علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک شخص کہتا ہے: میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، حالانکہ راستہ میں میری انگلی زخمی ہوگئی تھی،چو نکہ ایک سواری میرے پاس سے گزری جس کی وجہ سے میرا شانہ زخمی ہوگیا، جس کی بنا پر کچھ لوگوں سے نزاع ہوگئی اور انھوں نے میرے کپڑے تک پھاڑ ڈالے،
میں نے کہا: اے دن! اللّٰہ تیرے شر سے محفوظ رکھے، کتنا برا دن ہے!
اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: تو ہماری محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس طرح کہتا ہے؟
اس دن کی کیا خطا ہے؟ جو تو اس دن کو گناہگار قرار دیتا ہے؟
چنانچہ وہ شخص کہتا ہے کہ میں امام علیہ السلام سے یہ گفتگو سن کر ہوش میں آیا اور میں نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! میں توبہ و استغفار کرتا ہوں، اور خدا سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
اس موقع پر امام علیہ السلام نے فرمایا: ”دنوں کا کیا گناہ ہے؟
کہ تم ان کو بُرا اور نحس مانتے ہو جب کہ تمہارے اعمال ان دنوں میں تمہارے دامن گیر ہوتے ہیں“؟
راوی کہتا ہے: ”میں نے عرض کی میں اللّٰہ سے ہمیشہ کے لئے استغفار کرتا ہوں، اے فرزندِ رسول! میں توبہ کرتا ہوں“۔
اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:”اس سے کوئی فائدہ نہیں، جس چیز میں مذمت نہیں ہے اس کی مذمت کرنے پہ اللّٰہ تمہیں سزا دے گا،
کیا تمہیں نہیں معلوم کہ پروردگار ثواب و عذاب دیتا ہے،
اور اعمال کی جزا اس دنیا اور آخرت میں دیتا ہے،
اس کے بعد مزید فرمایا: اس کے بعد اس عمل کی تکرار نہ کرنا، اور حکم خدا کے مقابل دنوں کی تاثیر پر عقیدہ نہ رکھنا“۔
(تحف العقول، بحا رالانوار، جلد۵۹، صفحہ ۲کی نقل کے مطابق، (مختصر فرق کے ساتھ))

امامْ کا شعر متوکل کی فرمائش پہ:
باتوا علی قُلَلِ الأجبال تحرسهم غُلْبُ الرجال فما أغنتهمُ القُللُ
واستنزلوا بعد عزّ عن معاقلهم فأودعوا حُفَراً، یا بئس ما نزلوا
ترجمہ:
انہوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر رات بسر کی تا کہ وہ ان کی محافظت کریں لیکن ان چوٹیوں نےان کا خیال نہ رکھا۔
عزت و جلال کے دور کے بعد انہیں نیچے کھینچ لیا گیا انہیں گڑھوں میں جگہ دی گئی اور کتنی ناپسند جگہ اترے ہیں۔

پروردگار ہم سب کو سوچنے سمجھنے اور ادراک کرنے کی توفیق عطا فرما آمین یا رب العالمین

”وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى“
(سورہ طہ-47)
”التماسِ دعا “
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں