”کردار“

ہم اپنا کردار ہمیشہ منفرد رکھیں
جیسے “نمک”
اس کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی
مگر اسکی غیر موجودگی تمام چیزوں کو بے ذائقہ بنادیتی ہے

آخری سانس تلک سب کہیں انساں ہم کو
میرے یزداں میرا کردار بنادے ایسا
”روبی“

ہمیں کسی کا جواب دینے، کسی پروپیگنڈے کی تردید کرنے، اور کسی الزام تراشی کی صفائی دینے میں اپنی زبان و قلم کو غلط طریقہ پر جارحانہ انداز میں استعمال نہیں کرنا چاہئے

پروردگار سورہ فصلت آیت 34 میں فرماتا ہے:
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
( اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، آپ (بدی کو) بہترین نیکی سے دفع کریں تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ گویا نہایت قریبی دوست بن گیا ہے)

برائی کو نیکی سے دفع کرنا۔ جہالت کو علم اور بردباری، بد اخلاقی کو حسن اخلاق، گستاخی کو عفو درگزر سے، غرض بدسلوکی کو احسان سے دفع کرنا چاہیے۔

بلکہ ہمارے اندر نرمی، سمجھ بوجھ، مفاہمت اور الفت و محبت کی بو آنی چاہئے، نفرت و کراہت، بغض و عناد، تشدد و سختی کی نہیں،
ہمیں ہر ایسے طریقے و اسلوب سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے دوسروں کا دل چھلنی اور ان کے جذبات مجروح ہوتے ہوں،
ہمارا اسلوب ناصح کا ہونا چاہئے جس میں بھائی چارگی وخیر خواہی جھلکتی و ٹپکتی ہو۔ یہ سب ہمارے کردار کا حصہ ہیں
ہمارا منفرد کردار ہی ہمیں دوسروں سے منفرد کرتا ہے

”وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى“
(سورہ طہ-47)
”التماسِ دعا “
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں