حضرت امام علیؑ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے تمام عالم اسلام خصوصاً خانوادہ رسالت ص ہمارے امام عصر عج، مراجع عظام تمام مومنین و مومنات کو ایک بار پھر مبارکباد
پیش کرتے ہیں۔
در اک طرف تھا بنت اسد دوسری طرف
گوہر کو دیکھا کھل گیا دیوار سے صدف
چاروں طرف سے حوریں مؤدب ہیں صف بہ صف
قبلہ ہے شاد گویا اسے مل گیا ہدف
بے جان تو ہیں بت مگر کچھ بھانپنے لگے
شیر خدا کو دیکھ کے سب کانپنے لگے
آنکھیں ہیں بند کہ محرم اسرار ہے کہاں؟
بے چین ہیں کہ سید ابرار ہے کہاں ؟
جس کا ملا ہے وعدہ دیدار ہے کہاں ؟
اے رب کعبہ احمد مختار ہے کہاں ؟
دستِ نبی پہ آنکھیں علی کھولنے لگے
دیکھا نبی کو اور پھر کچھ بولنےلگے۔
(علی نقوی)
اس خوشی کے موقع پہ یہی دعا ہے اپنے پروردگار سے کہ جلد از جلد
امام زمانہ عج کا ظہور فرمائے اور ہم سب کو انکے انصار و محبوں میں شامل کرے،
"آمین یا رب العالمین”
ہم نے مانا کہ ہر اک بات سند ہوتی ہے
اور کچھ پوتے میں بھی فطرتِ جد ہوتی ہے
تین دن کعبہ میں حیدر نے کیا تھا پردہ
پردہ کرتے ہیں مگر پردے کی حد ہوتی ہے
"یا صاحب الزمان عج ادرکنی "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

