”معصومین کی ولادت ہوتی ہے، ظہور یا نزول نہیں “

( موضوع اہم ہے پوسٹ لمبی ہونے پہ معذرت )

ہم جس زمانے میں موجود ہیں بدقسمتی سے یہ وہ زمانہ ہے جس میں دین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور نئے سے نیا مسئلہ پیدا کیا جا رہا ہے۔
ان فتنوں اور تبدیلیوں میں سے ایک فتنہ ہے کہ
معصومینؑ کی ولادت نہیں ہوتی بلکہ انکا ظہور یا پھر نزول ہوتا ہے۔

لغت میں دیکھا جاۓ تو لفظ ولادت کے معنی ہیں پیدا ہونا
اور ظہور کا مطلب ہے ظاہر ہونا
نزول کا مطلب ہے اترنا یا اتارے جانا
لفظ ظہور ـ جس کی جڑ "ظ ۔ ہ ۔ ر” ہے ـ کے معنی کسی مخفی چیز کے ظاہر ہونے کے ہیں۔لفظ ظہور کے لسانی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ شدت کے ساتھ ظاہر ہونے کے معنی میں آتا ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ نمایاں ہوجانے کے ہیں اور جو شئے ظاہر ہوتی ہے وہ قبل ازاں خفیہ اور نہاں اور غائب تھی۔
زرارہ کہتے ہیں: میں نے امام باقر(ع) کو فرماتے ہوئے سنا:
إن للقائم غيبة قبل ظهوره۔
بےشک ہمارے قائم کے لئے غیبت ہے ان کے ظہور سے قبل۔۔۔۔
امام صادق(ع) نے امہدی موعود(عح) کے ظہور کے بارے میں فرمایا:
إن منا إماما مستترا فإذا أراد الله إظهار أمره نكت في قلبه نكتة فظهر فقام بأمر الله تعالى۔
بتحقیق جب پروردگارنے ارادہ فرمایا کہ حضرت مہدی علیہ السلام کو ظاہر کردیں تو ان کے دل پر الہام فرمائے گا پس وہ ظاہر ہونگے اور اللّٰہ کے امر سے قیام کریں گے۔
حضرت امام علی ابن ابی طالب (ع) کی ولادت کے وقت ان کی والدہ جناب فاطمہ بنت اسد نے جو دعا فرمائی وہ اس طرح تھی:
ربی انی مومنہ بک و بما جاء من عندک من رسل و کتب مصدقہ بکلام جدی ابراہیم فبحق الذی بنی ھذا البیت و بحق المولود الذی فی بطن لما یسرت وعلی ولادتی
"خدا وندا میں ایمان لائی ہوں تجھ اور ان چیزوں پر جو تیرے رسول لائے اور ان کتابوں پر جو مصدقہ ہیں میرے جد ابراہیم کی پس واسطہ اس کے حق کا جس نے اس گھر کو بنایا اور اس مولود کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے میرے اوپر ولادت کی سختی کو آسان کر۔”
(مناقب ابن شہر آشوب، جلد 2، صفحہ 173 طبع بیروت، امالی صدوق صفحہ 195 طبع قم، الدمعتہ الساکبہ، شیخ بہائی، جلد 1, صفحہ 180 طبع لاہور)

آئمہ سے مروی زیارت وارثہ میں آئمہ (ع) کو اس طرح یاد کیا گیا ہے:
اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ
"میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ وہ نور ہیں جو بلند مرتبہ صلبوں اور پاک و پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا آیا۔”
(مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، صفحہ 794 طبع تہران)

اس طرح کی بہت سی روایتیں ہیں جن کو یہاں بیان کرنا بہت مشکل ہے

اہم بات:
اس ظہور کے پیچھے چھپی بات کو ادراک کرنے کی ضرورت ہے
جب ہماری عوام یعنی اہل تشیع ہر آئمہ کی ولادت پہ ظہور ظہور کی مالا جانپیں گے تو اسکا نتیجہ کیا ہوگا؟
بہت آسان جواب ہے جب ہمارے درمیان یہی الفاظ گھومتا رہے گا اور ہر امام ع کی ولادت پہ ظہور کہہ کے ہم فقط جشن کا اہتمام، میلاد کرنا، منقبت کے مقابلے، منبر پہ تقریریں وغیرہ میں ہی مشغول رہیں گے تو جن کا ظہور ہونا ہے یعنی امامِ زمانہ عج کا۔۔
ان کے ظہور کے اعلان کا سن کے ہمارا کیا ردِ عمل ہوگا؟
جو ہم پریکٹس کرتے رہیں گے یعنی ولادت پہ ظہور کی اس وقت بھی وہی کریں گے ہمارے دماغوں سے یہ محو کردیا جائے گا کہ ان کا ظہور ہوگیا ہے۔ اور ہم سب صرف اور صرف ان کے جشن اور بقیہ تمام چیزیں کرتے رہیں گے
خدارا اپنی عقلوں کا استعمال کریں اس وقت امام عج کو اپنے انصار و اصحاب کی ضرورت ہوگی لیکن ہم میں سے کوئی وہاں موجود نہیں ہوگا۔
ہم سب کو ان کے انصار اور اصحاب میں شامل ہونا ہے اس لئے اس طرح کے پروپیگنڈے میں ملوث نہ ہوں 🙏
جو طاغوت، سیاہ چادر پہ چلتی ہوئی سیاہ چیونٹی کی طرح ہماری نسلوں کے ذہنوں میں داخل ہوتے جارہے ہیں

آخیر میں یہی دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو عقل و شعور دے تاکہ طاغوت کا مقابلہ کرسکیں اور اپنے امام عج کے ساتھیوں میں ہمارا شمار ہو آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں