15 رجب بی بی زینب سلام اللّٰہ علیہا کی شہادت کے موقع پہ رسول اللّٰہ ص خانوادہ رسول ع اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زمانہ عج کو اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں
حضرت زینبؑ کے بہت سے القاب ہیں من جملہ بعض مشہور القاب یہ ہیں:
عقیلۂ بنی ہاشم، عالمۃ غَیرُ مُعَلَّمَہ، عارفہ، موثّقہ، فاضلہ، كاملہ، عابدہ آل علی، معصومۂ صغری، امینۃ اللہ، نائبۃ الزہرا، نائبۃ الحسین، عقیلۃ النساء، شریكۃ الشہداء، بلیغہ، فصیحہ اور شریكۃ الحسین۔[نورالدین جزائری، الخصائصۃ الزینبیۃ، ص 52و53.]
آپ نے زندگی میں بہت زیادہ مصائب دیکھے۔ جیسے رسول اللّٰہ کی وفات،اپنی والدہ فاطمہ اور حضرت علی کی زندگی کی سختیاں،شہادت امام حسن مجتبی ، واقعۂ کربلا اور کوفہ و شام کی اسیری ان وجوہات کی بنا پر آپ کو ام المصائب کے لقب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔[امین، اعیان الشیعہ، ۱۴۰۶ق، ج۷، ص۱۳۷.]
حضرت زینبؑ نے حضرات معصومینؑ سے متعدد حدیثیں مختلف موضوعات میں نقل کی ہیں منجملہ: شیعیان آل رسولؐ کی منزلت، حب آل محمد، واقعۂ فدک، ہمسایہ، بعثت وغیرہ.
سننے والوں کیلئے آپ کے خطبات اپنے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے خطبات کی یاد تازہ کرتی تھی۔[احمد بہشتی، زنان نامدار در قرآن و حدیث، ص51]
کوفہ اور یزید کے دربار میں آپ کا خطبہ نیز عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ آپ کی گفتگو اپنے والد گرامی کے خطبات نیز اپنی والدہ گرامی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبہ فدکیہ کےساتھ مشابہت رکھتے تھے۔[سید کاظم ارفع، حضرت زینب ؑ سیرہ عملی اہل بیت، ص 88۔]
تاریخ اسلام اس عظیم خاتون کی فصاحت و بلاغت کی مقروض ہے،
ان خطبوں کی مقروض ہے جو انھوں نے امام حسین علیہ اسلام کی شہادت کے بعد اسیری کے عالم میں دربار یزید میں دئیے۔
بی بی زنیب کے کمال و فن، فصاحت و بلاغت، جرات و اعلی کردار کو احاطہ تحریر میں لانا ہماری بساط سے باہر ہے۔ وہ نہ صرف کربلا کی شیر دل خاتون ہیں بلکہ میدان کربلا میں یتیم ہونے والے بچوں کا سہارا بھی،
امام حضرت سجاد علیہ اسلام کی ڈھارس بھی ہیں
ثانی زہرا ، وارث تطہیر، عالمہ غیر معلمہ سیدہ بی بی زنیب سلام اللہ علیہ جن کی ہیبت سے آج بھی ہر دور کا یزید کانپتا ہے کیونکہ یہ کوئی عام خاتون نہیں بلکہ فاتح خیبر کی فاتح کربلا شیر دل بیٹی، امام حسین علیہ اسلام کی ناصر شریکتہ الحسین ہمشیرہ اور محافظ امامت ہیں، کیا ہوا جو پیکر اور مجسم ذات بی بی زنیب کی ہے لہجہ تو علی مرتضی کا ہے، تربیت تو فاطمہ کی ہے اگر یہ مقدسہ بی بی میدان کربلا میں نہ ہوتیں تو مقصد حسین فوت ہو جاتا۔۔
مشن حسینی کی تکمیل نہ ہوتی اور نہ ہی اسلام کو بقا ملتی
جس جگہ شامِ غریباں کی ہو مجلس برپا
ذکر ہوتا ہے وہاں تا بہ سحر زینب کا
بی بی کی شہادت پہ کئی روایت ہے اس میں ایک یہ ہے
ہفتہ 15 رجب 62ھ/ 29 مارچ 682ء
(مدت حیات: 57 سال 2 ماہ 10 دن قمری،
55 سال 5 ماہ 28 دن شمسی)
دمشق، خلافت امویہ، موجودہ شام
دوسری روایت
شہادت: 27 جمادی الاول سال 65 ہجری ،قمری
لیکن مستند 15 رجب ہی ہے
15 رجب سنہ 63 ہجری کو اپنے شریک حیات عبداللہ بن جعفر کے ہمراہ سفر شام کے دوران وفات پاگئیں اور وہیں دفن ہوئیں اور بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ مدینہ یا مصر میں دفن ہیں۔ [قزوینی، محمد کاظم،زینب الکبری من المہد الی اللحد،ص434]
حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کی شہادت کے تقریبا ” ڈیڑھ سال بعد 15 رجب المرجب 62 ہجری کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں ۔ آپ کا روضہ اقدس شام کے دارالحکومت دمشق میں ہے
ہم میں صرف کتابی درس دینے والے موجود ہیں عملی درس اس وقت شروع ہوگا جب ہم اپنے گھروں میں بی بی زینب تیار کریں گے یہ کام اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگا
ایک قدم تو اٹھائیں
پروردگار ہم سب خواتین میں عزمِ زینبی بیدار فرما
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
