27 رجب یومِ بعثت

ستائیس رجب ہماری اور ہماری فیملی تمام ملتِ اسلامیہ کو یوم بعثت کی مبارکباد پیش کرتے ہیں
ستائیس رجب یومِ بعثت ہے یومِ معراج نہیں

مَبعَث یا بعثت اسلامی اصطلاح میں اس دن کو کہا جاتا ہے جس میں حضرت محمدؐ کو پیغمبری پر مبعوث کیا گیا۔ یوں یہ دن دین اسلام کا سر آغاز قرار پاتا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت آپؐ کی عمر 40 سال تھی اور آپ غار حراء جو کوه نور (مکہ سے نزدیک ایک پہاڑی) میں واقع ہے، میں خدا کے ساتھ راز و نیاز میں مشغول تھے۔ اہل تشیع میں مشہور ہے کہ یہ واقعہ 27 رجب کو ہجرت سے 13 سال قبل پیش آیا ہے۔

بعثت کا معنی:
دینی اصطلاح میں اللّٰہ کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کیلئے کسی نبی یا رسول کے بھیجنے کو بعثت کہا جاتا ہے۔[تہانوی، موسوعۃ کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، ۱۹۹۶م، ج۱، ص۳۴۰.]
اس بنا پر روز مبعث یا عید مبعث اس دن کو کہا جاتا ہے جس دن حضرت محمدؐ رسالت پر مبعوث ہوئے۔[ہمایی، «مبحث بعثت رسول اکرمؐ»، ص۴۴.]
عید بعثت ، مسلمانوں کی بزرگترین عیدوں میں سے ایک عید ہے،
قران کریم اور روایتوں کی بنیاد پر اسلام نے انسانوں کو صحیح زندگی بسر کرنے کا طریقہ سیکھایا ۔

بعثت کا حقیقی مفہوم:
بعثت رسولِ اعظم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے کئی اہداف و مقصد بیان کیے جاتے ہیں، ہر ہدف اور مقصد نیز فلسفہ بعثت کے ساتھ جزوی اور مجموعی طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے، لیکن عملی میدان میں بعثت کا فلسفہ پوری طرح سمجھنے کے لیے آزادی اور سماجی انصاف کو بعثت کا اصل فلسفہ اور ہدف بنانا ہے ۔ (آیت اللّٰہ خمینی)

مورخین کے مطابق بعثت کا واقعہ پیر کے دن 27 رجب سنہ 40 عام الفیل کو پیش آیا۔ بعض قول کے مطابق روز مبعث 17 یا 18 رمضان، یا ربیع الاول کے مہینے کی کسی تاریخ کو یہ واقعہ پیش آیا، اگرچہ اہل تشیع کے نزدیک پہلا قول درست ہے۔[ابن ہشام، عبدالملک، السیرہ النبویہ، ج ۱، ص۲۴۰؛ یعقوبی، احمد، تاریخ، ج ۲، ص۱۵؛ طبری، تاریخ، ج ۲، ص۲۹۳.]
حضرت محمدؐ غار حراء میں عبادت میں مشغول تھے اسی اثنا میں سورہ علق کی پہلی چند آیتوں کے نزول کے ساتھ آپؐ کی بعثت کا آغاز ہوا اور سورہ مدثر کی چند آیتوں کے نزول کے ساتھ وحی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔[یعقوبی، احمد، تاریخ، جلد ۲، ص۱۷- ۱۸]
پیغمبر اکرمؐ نے سب سے پہلے اپنی زوجہ حضرت خدیجہ(س) اور اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؑ کو اس واقعے سے آگاہ فرمایا۔ اس واقعے کے تین سال بعد سورہ شعراء کی آیت نمبر 214 وَأَنذِرْ عَشِیرَتَک الْأَقْرَبِینَ (ترجمہ: اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے) کے نزول کے ساتھ آپؐ کی رسالت اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی اور
اسی سال سورہ حجر کی آیت نمبر 94
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکینَ
(ترجمہ: پس جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے اسے انجام دو اور مشرکان سے دوری اختیار کرو)
کے نزول کے ذریعے آپؐ کو اپنی پیغمبری کا عمومی اعلان کرتے ہوئے اپنی دعوت کے دائرہ کو وسیع کرنے کا حکم آیا یوں آپؐ نے پہلی بار بازار عکاظ میں جہاں پر سب لوگ تجارت کے لئے جمع تھے اور کچھ لوگ اپنے نئے اشعار سنارہے تھے، عمومی طور پر دین اسلام کی دعوت دی۔

نبوت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر
ترا دیں ارفع و اعلی، شریعت ختم ہے تجھ پر
ہے تری مرتبہ دانی میں پوشیدہ خدادانی
تو مظہر ہے خدا کا، نور وحدت ختم ہے تجھ پر
(عرشی)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں