” عزت اور ذلت“

عزت اور ذلت صرف باشعور لوگوں کے سامنے ہوتی ہے،
ورنہ جاہلوں کی نظر میں باوقار بننے کی کوشش کریں تو اپنے معیار سے گرنا پڑتا ہے
جو کسی باشعور انسان کو زیب نہیں دیتا (نعمان الحق )

اللّٰہ نے قرآن مجید میں فرمایا!
وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ( آلِ عمران / 26)
(اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے)

ہمیں اس پہ بھی بھروسہ ہونا چاہئے کہ ہماری عزت اور ذلت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے

اللّٰہ جسے چاہے اسے ملتی ہے مظفرؔ
عزت کو دکانوں سے خریدا نہیں جاتا
(مظفر وارثی)

وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ: عزت اس حالت کو کہتے ہیں، جس تک پہنچنا آسان نہ ہو۔ اس لیے نادر چیز کو عزیز الوجود کہتے ہیں اور جس پر غالب آنا مشکل ہو اس کو بھی عزیز کہتے ہیں۔ ناقابل تسخیر کو عزیز کہتے ہیں۔
‎وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ: جس کو اللّٰہ عزت نہ دے، وہ ذلیل ہے
‎چونکہ عزت صرف اللّٰہ کے پاس ہے، غیر اللّٰہ کے پاس اللّٰہ کی طرف سے عزت آئے تو عزیز ہوتا ہے، ورنہ اپنی اصلی حالت، یعنی ذلت پر برقرار رہتا ہے۔(تفسیر الکوثر)

اپنی بےعزتی کا جواب اتنی عزت سے دیا جائے کہ سامنے والا سرِ تسلیم خم ہوجائے
کیونکہ
جو ظلم کے ذریعے عزت چاہتا ہے اللّٰہ اسے انصاف کے ذریعے ذلیل کرتا ہے..!

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
(مولانا ظفر علی خان)

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں