اس رات کا نام شب برات اس وجہ سے ہے کہ اللّٰہ اپنے بندوں کو جو گناہوں کی بنیادپر جہنم کے مستحق ہو چکے ہوتے ہیں انہیں جہنم سے بری اور آزاد کر دیتاہے۔ اس رات کی گھڑیوں اورساعات کے اندر اللّٰہ نے یہ عظمت رکھی ہے کہ جو شخص اس میں اللّٰہ کی عبادت کرے اور اپنےگناہوں کی مغفرت طلب کرے، پروردگار اسے بخش دیتا ہے اور جہنم کی آگ بھی اس پر حرام قرار دے دیتاہے۔شب قدرکے بعد اس رات کو سب سے افضل رات قرار دیا گیا ہے۔ اس رات اللّٰہ کی رحمت، بخشش، توبہ اور نعمتوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔
شب برات ، اللّٰہ کا خاص لطف:
شب نیمہ شعبان، شب برات اللّٰہ تعالی کے الطاف خاص میں سے ایک لطف ہے۔ اس رات کی عظمت کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ جبرائیل نے اللّٰہ تعالی کی طرف سے پیغمبراکرم کو یہ پیغام سنایا کہ اللّٰہ آپ حکم دیتا ہے کہ اس رات کو بیدار رہیں اور اپنی امت کو بھی اس رات بیدار رہنے کی وصیت کریں تاکہ اس رات عبادت کے زریعہ اللّٰہ کا قرب حاصل کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ آج رات وہ رات ہے کہ:
لَايَدْعُو فِيهَا دَاعٍ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ وَ لَا سَائِلٌ إِلَّا أُعْطِيَ وَ لَا مُسْتَغْفِرٌ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَ لَا تَائِبٌ إِلَّا تِيبَ عَلَيْهِ
جو بھی اس رات میں دعا کرنیوالا ہے، اسکی دعا مستجاب ہے، جو بھی سوال کرنیوالا ہے، اسے گویا عطا کر دیا گیا ہے، جو استغفار کرنیوالا ہے، اسے بخش دیا گیا ہے اور جو توبہ کرنیوالا ہے، اسکی توبہ قبول کر لی گئی ہے۔”
(وسائل الشيعة (آل البيت) – الحر العاملي – ج ٨ – الصفحة ١٠٥)
( نوٹ۔ صرف ایک بات یہ مستحبات اعمال اس وقت قابل قبول ہیں جب ہم نے واجبات میں کوتاہی نہ کی ہو کیونکہ یہ عمل ایکسٹرا ایکٹیویٹیز ہیں جب تک اصل نہیں ہو اس وقت تک ایکسٹراز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا )
اس رات کی ایک اور اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ فجر کے وقت امام زمان (عج) کی ولادت باسعادت بھی ہے۔ اس حوالے سے سب مومنینن کی خدمت میں مبارک پیش کرتے ہیں اور بارگاہ رب العزت میں دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو اس رات اپنے مالک حقیقی کے ساتھ راز و نیاز کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ آج کی رات ہماری پھپھی ( ساس) کو اپنی خصوصی دعاؤں میں شامل رکھئے گا 🤲 پروردگار ان کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے
اور پھپھا (سسر۔ سید محمد حسنین ابن سید فرحت حسین ) کی مغفرت فرمائے اور انکی آگے کی منزلوں کو آسان کرے
آمین یا رب العالمین
ہوچکی ہے جو مجھ سے خطا بخش دے
بخش دے بخش دے اے خدا بخش دے
بحرِ رحمت تیرا کل جہاں سے بڑا
تیرا فضل و کرم ہے میرا آسرا
تیرے دربار میں آج ہے التجا
میرے عصیاں بھی اے شہنشاہ بخش دے
بخش دے بخش دے اے خدا بخش دے
فضل تیرا بھلا کس نے پایا نہیں
سارے تیرے ہیں کوئی پرایا نہیں
تو نے مایوس کوئی لوٹایا نہیں
میری جھولی بھی بھر دے ذرا بخش دے
بخش دے بخش دے اے خدا بخش دے
گو کسی امتحاں کے میں قابل نہیں
ہاں میں عابد نہیں،ہاں میں عامل نہیں
پر کسی اور کے در کا سائل نہیں
بندہ۔ تیرا ہوں بس میں تیرا بخش دے
بخش دے بخش دے اے خدا بخش دے
تجھ کو بھولے ہوئے ہیں گنہگار ہیں
امتِ مصطفیٰ ہیں، خطا کار ہیں
آئے بیٹھے سخی تیرے دربار ہیں
ہے رضا کی یہی التجا بخش دے
بخش دے بخش دے اے خدا بخش دے
(نعیم رضا)
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
