اللّٰہ کا فرمان
اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ (سورہ الرعد/ 28)
آگاہ رہو۔۔ اللّٰہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے …
علماء کی صحبت میں رہیں ۔۔ سکون مل جائے گا
فرض اور شوق یکجا کردیں۔۔۔ سکون مل جائے گا
کسی کا سکون برباد نہ کریں ۔۔ سکون مل جائے گا
دل سے کدورت نکال دیں ۔۔ سکون مل جائے گا
انسان کے ظاہری وجود میں ایک اور انسان ہے جسے ضمیر، فطرت، قلب، وجدان اور جبلت کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔
جس طرح ظاہری انسان کے تقاضے ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنے سے سکون و اطمینان ملتا ہے، اسی طرح داخلی انسان کے بھی تقاضے ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنے سے سکون ملتا ہے۔
اگر یہ ظاہری انسان اپنے داخلی انسان کے تقاضوں کے مطابق عمل کریں، مثلاً ذکر و عبادت الٰہی میں مصروف ہو جائے تو اس سے ظاہری و باطنی انسان میں ہم آہنگی اور باہمی امن و آشتی برقرار رہتی ہے۔
اسے سکون و اطمینان کہتے ہیں۔
اک مسلسل تیرگی میں روشنی کا سلسلہ
تیرے جیسا کب ہے کوئ دوسرا تیرے سوا
(ندیم )
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
“روبی عابدی”

آپ کی تحریروں کا مرکزی خیال بہت عمدہ ہے، میرے پسندیدہ موضوعات بھی ایسے ہی ہیں، آپ اگر میری تحریروں کا مطالعہ کریں تو ہم آہنگی ملے گی
پسند کریںLiked by 1 person