بیسن کے پکوڑے کھا رہے ہیں
ذرا چٹنی۔ زیادہ ڈال دینا
پکوڑوں کی فضیلت کے بارے میں عرض ہے کہ یہ پکوڑے شریف افطاری کا دوسرا اہم رکن ہے۔
پکوڑے شریف اکیلے فرض نہیں ہوئے تھے اسکے ساتھ سموسے اور کچوریاں بھی برابر مانی جاتی ہیں-
اگر کسی مجبوری کے تحت پکوڑے شریف نہ مل سکیں تو ہم سموسے اور کچوڑی سے کمی پوری کر سکتے ہیں اور لذت افطاری میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ گھر کے بنے ہوئے پکوڑے شریف افضل ہیں اور ثواب بھی زیادہ ہے۔
رمضان کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض ہوئے ہیں لیکن پکوڑے شریف برصغیر خصوصاً انڈیا اور پاکستانی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں۔
ضرورت ایجاد کی ماں ہے مگر پکوڑوں کا شجرہ نسب تا حال معلوم نہیں ہوسکا کہا جاتا ہے کہ ایک مکرانی بیسن کی ٹکیاں تیل میں تل رہا تھا وہ بار بار نکالتا تو دیکھتا ابھی اندر سے کچا ہے دو تین دفعہ کرنے کے بعد اسکو غصہ آیا اس نے غصے میں کہا
” پکو۔ ڑے“ تو بس اس دن سے اس کا نام پکوڑے رکھ دیا گیا 😀
مگر انکو بنانے کے کام میں زیادہ تر ماؤں کو ہی دیکھا گیا ہے۔
پکوڑے شریف مختلف شکلوں کے بنائے جاتے ہیں سب سے مشہور شکل کوئی شکل نہیں ہےگول چکور لمبے نیز ہر قسم کے پکوڑے شریف یکساں مقبول و مشہور ہیں
پکوڑوں کو مختلف چٹنیوں کے ساتھ کھانا ثابت ہے لیکن عصر جدید میں کیچپ وغیرہ کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔
اب تک پکوڑوں کی سب سے زیادہ قسمیں شیف ذاکر اور زبیدہ آپا نے ایجاد کی ہیں
۔ ابھی تک پکوڑوں کو کسی بھی محاورے کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا مگر بعض افراد کی ناک کو پکوڑے شریف سے تشبیہ دی جاتی ہے جو کہ اسلامی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔
یہ بھی مفروضہ غلط ہے کہ سکندراعظم یہاں پکوڑے شریف کھانے آیا تھا۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی سند موجود نہیں ہے۔ (اقتباس)
پکوڑے شریف کے لئے ڈان اور جنگ اخبار کا استعمال بھی بہت مشہور ہے
اب آپ لوگ بتائیں ان میں سے کس اخبار میں جذب کرنے کی خاصیت زیادہ ہے؟
کسی نے کیا خوب کہا ہے
ان بکھرے ہوئے کاغذوں میں کیا ڈھونڈتے ہو،
وہ جس میں تیری تصویر تھی کوئی پکوڑے لے گیا
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
