- سوال 1: کون سے مراجع افطار کے لئے فقط غروب کے قائل ہیں، اور کون سے مراجع قائل نہیں ہیں؟
جواب 1: اکثر مراجع قائل ہیں کہ افطار کے لئے سورج کی ٹکیہ کا غروب ہونا کافی ہے، لیکن چونکہ ادلّہ مکمل نہیں تو اکثر احتیاط وجوبی کے قائل ہیں۔ معاصرین میں سے آیت اللّٰہ مکارم شیرازی، سعید الحکیم، فاضل لنکرانی، یوسف صانعی وغیرہ قائل ہیں کہ غروب افطار کے لئے کافی ہے۔
جبکہ آیت اللّٰہ خامنہ ای و آیت اللّٰہ سیستانی احتیاط واجب کہتے ہیں کہ مشرقی سرخی کے زائل ہونے تک انتظار کیا جائے،
لیکن ان کے مقلّدین احتیاط واجب کی صورت میں ضرورت پڑنے پر دیگر مراجع سے رجوع کر سکتے ہیں۔
سوال 2: ہم روزہ اندھیرے میں کیوں افطار کرتے ہیں؟
اوقات مغرب و افطار کی بھی وضاحت کردیں۔
جواب 2: یہ عام تصوّر ذہنوں میں بیٹھا ہے کہ ہم روزہ افطار رات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ (البقرہ/187) میں "لیل” سے مراد رات کا آغاز ہے، اور رات کا آغاز غروب آفتاب کے بعد ہو جاتا ہے۔ اور غروب آفتاب کی نشانی یہ ہے کہ مشرق کی سرخی زائل ہو جائے جو غروب کے وقت ہوتی ہے۔
یعنی ہم روزہ افطار اہل سنّت کے مقابلے میں دیر سے اس لئے کرتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک مغرب ہوتی ہی تب ہے جب مشرقی سرخی زائل ہو جائے۔
رات کا مغرب سے شروع ہونے کا ثبوت ہی یہی ہے کہ ہم آدھی رات کا حساب مغرب سے فجر تک کے وقت کو آدھا کرتے ہیں۔
یعنی رات کا شمار مغرب سے فجر تک ہوتا ہے، بعض فقہاء نے طلوع آفتاب تک بھی کیا ہے یعنی ان کے نزدیک رات مغرب سے سورج نکلنے تک ہوتی ہے۔ فقیہ اہل بیت مرحوم آيت اللّٰہ مرزا جواد تبریزی اس بات کے قائل رہے ہیں۔
جب مشرقی سرخی زائل ہو جائے تو پھر مغرب کا بھی وقت ہو جاتا ہے، یعنی ہمارے ہاں مغرب کا اور افطار کا وقت ایک ہی معیّن ہے۔
(اہم نوٹ روزہ کھولنے کا روشنی باقی ہونے سے کوئ تعلق نہیں ہے۔ قرص آفتاب کا غائب ہونا ہی غروب کی دلیل ہے۔
Mohsin Naqvi محسن بھائی کا جواب)
"
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
