*مبطلات روزہ*

اللّٰہ، انبیا اور معصومین علیہ السلام سے جھوٹ منسوب کرنا

روزہ ہو یا نہ ہو جھوٹ بولنا حرام ہے
کسی سے جھوٹی بات منسوب کرنا بھی حرام ہے

معصومین علیہ السلام سے کسی جھوٹی بات کو منسوب کرنے کا گناہ اور بھی زیادہ ہے
اللّٰہ، انبیاء و آئمہ معصومین علیہ السلام سے جھوٹی بات منسوب کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے
مثلا بولنا ،لکھنا، اشارہ کرنا، کسی سوال کے جواب میں ایس ایم ایس(Sms)
ای میل(Email) یا کوئی میسج فاروڈ(Frwd) یا کسی کی جھوٹی بات کی تائید یا لائیک کرنا وغیرہ

نوٹ:-
1- جانتے بوجھتے جھوٹ منسوب کرنے سے روزہ باطل ہوتا ہے۔

2- سچ سمجھتے ہوئے نقل کیا بعد میں پتہ چلا کہ جھوٹ تھا تو روزہ صحیح ہے۔
3- نہیں معلوم سچ ہے یا جھوٹ تو ایسی بات کو حوالے کے ساتھ نقل کریں

آیة اللّٰہ العظمی السید علی الحسيني السيستاني دام ظله
آیة اللّٰہ العظمی رہبر معظم سید علی خامنہ ای دام ظلہ

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں