غرور و تکبر

”غرور و تکبر “

وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ (لقمان / ۚ۱۸)
ترجمہ: اور لوگوں سے (غرور و تکبر سے) رخ نہ پھیرا کرو اور زمین پر اکڑ کر نہ چلا کرو، اللّٰہ کسی اترانے والے خود پسند کو یقینا دوست نہیں رکھتا۔

عزت نفس کا جذبہ حد سے بڑھ جائے اور دل میں یہ خیال آئے کہ ہم سب سے بڑے ہیں، ہم عزت والے ہیں اور باقی سب لوگ ذلیل ہیں اور حقیر ہیں یہی تکبر ہے،اس لیے کہ تکبر کے معنی ہیں اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا۔
ہم کو بے شک یہ حق حاصل ہے کہ ہم یہ چاہیں کہ دوسروں کی نظر میں بے عزت نہ ہوں،لیکن کسی بھی دوسرے شخص سے اپنے آپ کو افضل سمجھنا کہ ہم اس سے اعلی ہیں اور یہ ہم سے کمتر ہے،
یہ تکبر ہے
المتکبر ۔تکبر کرنے والی اور کمالِ بزرگی والی ذات
اس کا مفہوم ہے۔ تکبر اللّٰہ کے سوا ہر دوسرے کے لئے ایک منفی اور جھوٹا دعویٰ ہے۔ اللّٰہ اپنی ذات اور صفات میں ہر لحاظ سے مطلق طور پر برتر ہے اور اس کا یہ تکبر ذاتی ہے ناکہ کسی کا عطا کردہ۔ چنانچہ یہ تکبر اللّٰہ کوزیبا بھی ہے اور اس کا حق بھی۔ کوئی دوسرا اگر تکبر کرتا ہے تو وہ خدا کی ہمسری کا دعویٰ کرتا ہے۔

اندھیرے لوٹ آتے ہیں تکبّر کی سزا بن کر
سبھی کو آزماتے پھِر رہے ہو کیوں خدا بن کر
(بشارت شاہ)

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا: اور زمین پر اکڑ کر نہ چلا کرو۔
انسان کی چال اس کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ہر قدم اس کی نفسیات کے مطالعہ کے ایک ورق کی حیثیت رکھتا ہے۔
تکبر و نخوت اور زمین پر اکڑ کر چلنا نفسیاتی بیماری کی علامت ہے۔ جس شخص کی شخصیت میں خلا ہو وہ اسے تکبر کے ذریعے پر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں