قانونِ فطرت

ہم کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم” کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔
کھانا ہضم نہ ہونے پر ” بیماریاں” پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں "ریاکاری” بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی” اور "غیبت” بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور” میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی” بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی” بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں ” خطرات” میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس لئے ہمیں ہضم کرنا سیکھنا چاہئے۔
اور کہیں ایسا نہ ہو کہ کہنا پڑے کہ

مری جان کی امان ہو میں نے کی بیاں حقیقت
نہیں ہضم ہوگا تجھ کو یہ غریب کا نوالہ
(حاوی مومن)

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک” با مقصد” اور "با اخلاق” زندگی گزاریں،
لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں

خوش رہیں، اور خوشیاں بانٹیں

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں