”آباؤ اجداد کی اندھی تقلید“

سوال:
کیوں بت کے سامنے جھکتے ہو؟
جواب:
کیونکہ باپ دادا یہ عمل کرتے تھے
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلۡفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ﴿البقرہ / 170﴾
‎اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللّٰہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے

قرآن اس بیہودہ اور خرافاتی منطق کی فورا اخبر لیتاہے جو آباؤ اجداد کی اندھی تقلید ہے۔ ارشاد ہوتاہے:
اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ﴿البقرہ / 170﴾۔
کیا ایسا نہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کچھ نہیں سمجھتے تھے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے
یعنی اگر وہ پڑھے لکھے اور ہدایت یافتہ لوگ ہوتے تو گنجائش تھی کہ ان کی پیروی کی جاتی لیکن یہ جاننے کے با وجود کہ وہ ان پڑھ، نادان اور تو ہم پرست تھے کیا تُک ہے کہ ان کی پیروی کی جائے کیا یہ جاہل کی تقلید کا مصداق نہیں؟
‎قرآن نے کہا ہے کہ
اگر آباء عقل مند نہ ہوں تو کیوں کرتے ہو۔ دینِ الہٰی کو چھوڑ کے آبائی دین کو اپناؤ گے تو احمق کہلاؤ گے

تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پر
فیصلہ ہوگا ہمارا آج کی بنیاد پر
(احیاء)

سب سے زیادہ جو بت انسان کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ آباء و اجداد کی تقلید اور رسم و رواج کی پیروی کا بت ہے جس نے اسے توڑ لیا اس کے لئے آگے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔
اصولی طور پر اپنی عقل و فکر کو دست بستہ بڑوں کے سپرد کردینے کا نتیجہ دقیانوسی رجعت پسندی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ عموما بعد والی نسلیں گذشتہ نسلوں سے زیادہ علم و آگہی رکھتی ہیں۔
افسوس کی بات ہے کہ یہ جاہلانہ طرز فکر آج بھی بہت سے افراد پر حکمرانی کرتی ہے اور وہ لوگ اپنے بڑوں کی بتوں کی طرح پرستش کرتے ہیں اور بعض خرافاتی آداب و رسوم کو فقط اس لئے بے چون و چرا مان لیتے ہیں کہ یہ بزرگوں کے آثار ہیں اور انہیں دلفریب لباس پہنا دیتے ہیں۔
یہ طرز فکر ایک نسل کی خرافات دوسری نسل میں منتقل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔
البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آنے والی نسلیں گذرجانے والوں کے آداب و سنن کا تجزیہ کریں اور ان میں سے جو عقل و منطق کے مطابق ہوں ان کی بڑے احترام سے حفاظت کریں اور جو بےبنیاد خرافات وموہومات ہوں انہیں دور پھینک دیں۔
اس سے بہتر کو ن سا کام ہوسکتا ہے اور ایسی تنقید گذشتہ لوگوں کے آداب و سنن میں ملی و تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں کی حفاظت کہلانے کی اہل ہے

اپنے اجداد سے روبیؔ یہی سیکھا ہے ہنر
جان جائے تو فقط حق و صداقت کے لئے
(روبی عابدی)

لیکن اجداد کو ہر پہلو سے قبول کرلینا اور اندھی تقلید کرنا سوائے خرافات پرستی اور رجعت پسندی کے کچھ نہیں

”آبائی دین کی توضیح المسائل، جنتری ہے “

”وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں