امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی پرمسرت موقع پہ ہم اور ہماری فیملی، رسول اللَّه، خانوادہ رسولٌ علیْ و بتولْ، خصوصاٌ ہمارے وقت کے امام عصر عج،
تمام مومنین و مومنات، مسلمین و مسلمات کو دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں
امام رضا علیہ السلام توحید کے سب سے بڑے مبلغ ۔رضاۓ حق کے سب سے عظیم پیکر امام علی رضا بن موسی ابن جعفر کا یوم ولادت معطر و منور شمیم و ایمان وایقان کی روشنی سے جگمگاتا ھوا بابرکت دن اور مبارک ساعت سارے عالم اسلام کو بہت بہت مبارک ھو
امام علی رضا علیہ السلام
کی تاریخ و لادت 11 ذیقعدہ 168ھ(م 29 دسمبر 765ئ) روز جمعہ یاپنجشنبہ پر اکثر مورخین متفق ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کی ولادت کا سال آپ کے جد بزرگوار امام جعفر صادق (ع) کے سال شہادت کا ہم عصر ہے(بحار الانوار ۔ روضۃ الواعظین) لیکن بعض مورخین کے بموجب جن میں شیخ صدوق بھی شامل ہیں تاریخ ولادت 11 ربیع الاول 153ھ روز پنجشنبہ ہے ۔( عیون اخبار رضا، مروج الذہب)
اک عرش نشیں آج کے دن اترا زمیں پر
انوارِ الہی کی تجلی ہے جبیں پر
عصمت کے گلستان کا گر پھول ہے دسواں
تو آٹھواں ہے نقش ولایت کے نگیں پر
(الفت حسین)
لقب رضاْ کی وضاحت:
ہمارے ائمہ علیہ السلام کے نام، لقب اور کنیت میں ایک خاص پیغام ہوتا ہے ( مثلاً سجاد (ع)، باقر(ع)، صادق (ع) وغیرہ ) ابن جریر طبری نے سال ٢١ھ کے واقعات کے ضمن میں لکھا ہے کہ اس سال مامون رشید نے امام علی بن موسیٰ بن جعفر(ع) کو اپنا ولی عہد مقرر کیا اور ان کو ”الرضا من آلِ محمد (ع) ” کے نام سے مخصوص کیا۔ البتہ ابن خلدون نے ”الرضا ” کی جگہ ”الرضی ” تحریر کیا ہے۔ لیکن محمد جواد معینی (مترجم) کتاب ” امام علی بن موسیٰ (ع) الرضا (ع)” نے مختلف روایات کی روشنی میں یہ دلیل دی ہے کہ اس لقب کا ولی عہدی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مامون رشید کے وزیر خاص فضل بن سہل نے امام کے نام اپنے تمام پیغامات میں الفاظ ” بعلی بن موسیٰ الرضا (ع) ” سے مخاطب کیا ہے جو اس لقب کی قدامت پر دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ابوالحسن ، ابو علی اور ابو محمد آپ (ع) کی کنیت ہیں۔ امام (ع) کے رضا (ع) کے علاوہ اور بھی القاب ہیں جنہیں سراج اﷲ ، نور الھدیٰ ، سلطان انس وجن، غریب الغربا اور شمس الشموس وغیرہ ہیں جو آپ کی زیارتوں میں شامل ہیں۔
اَللّـهُمَّ صَلِّ عَلى عَلِیِّ بْنِ مُوسَى الرِّضا الْمُرْتَضَى الاِمامِ التَّقِیِّ النَّقِیِّ وَحُجَّتِکَ عَلى مَنْ فَوْقَ الاَرْضِ وَمَنْ تَحْتَ الثَّرى، الصِّدّیقِ الشَّهیدِ، صَلاةً کَثیرَةً تامَّةً زاکِیَةً مُتَواصِلَةً مُتَواتِرَةً مُتَرادِفَةً، کَاَفْضَلِ ما صَلَّیْتَ عَلى اَحَد مِنْ اَوْلِیائِکَ
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی“
