کسی نے دعا دی
” اللّٰہ ہمیں اور آپ کو بھی آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے”
دعا لینے والے نے حیرت سے کہا:
"حضرت! شکر ہے پروردگار کا ہم مال پاک کرنے کے لیے ہر سال وقت پر زکاۃ نکالتے ہیں، بلاؤں کو ٹالنے کے لیے حسبِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں…. اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں، ہمارے کام والی کا ایک بچہ ہے، جس کی تعلیم کا خرچہ ہم نے اٹھا رکھا ہے، اللّٰہ کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے ہیں …..
وہ تھوڑا سا مسکرائے اور بڑے دھیمے اور میٹھے لہجے میں بولے:
"میرے بچے! سانس، پیسے، کھانا … یہ سب تو رزق کی مختلف قسمیں ہیں، اور یاد رکھیں
"رَازِق اور الرَّزَّاق”
صرف اور صرف اللّٰہ تعالٰی کی ذات ہے…. ہم یا کوئی اور انسان یا کوئی اور مخلوق نہیں ….. ہم جو کر رہے ہیں، اگر یہ سب کرنا چھوڑ بھی دیں تو اللّٰہ تعالٰی کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کر سکتی ہے ، اگر ہم یہ کر رہے ہیں تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہو.”
انہوں نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھ میں لیا اور پھر بولے:
"میرے بچے! آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹنا
کسے کہتے ہیں…..
*- کبھی کسی اداس اور مایوس انسان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹہ ان کی لمبی اور بے مقصد بات سننا….. آسانی ہے!
*- اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ ودو کرنا …. آسانی ہے!
*- صبح اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا…. یہ آسانی ہے!
*- اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا… یہ بھی آسانی ہے!
*- غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا …. یہ بھی آسانی ہے!
*- چاۓ کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بُلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بُلانا….. بھی آسانی ہے!
*- گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا….. یہ آسانی ہے!
*- تمہارا اپنے دفتر، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا، دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا، کچھ دیر رک کر ان سے ان کے بچوں کا حال پوچھنا….. یہ بھی آسانی ہے!
*- ہسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنا اور اسے تسّلی دینا ….. یہ بھی آسانی ہے!
*- ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہو گئی ہو …… سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے!”
انہوں نے حیرت میں ڈوبے نوجوان کو شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جارے رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا:
"بیٹا جی! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے؟
*- آج واپس جا کر باھر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ بجا کر دروازہ کُھلنے تک انتظار کرنا ،
*- آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو ،
*- آج سے ماں کے پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً ان کے پاس پہنچ جایا کرنا…. اب انھیں تمہیں دوسری آواز دینے کی نوبت نہ آئے ،
*- بہن کی ضرورت اس کے تقاضا اور شکایت سے پہلے پوری کریا کرو ،
*- آیندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا ،
*- سالن اچھا نہ لگے تو دسترخوان پر حرف شکایت بلند نہ کرنا ،
*- کبھی کپڑے ٹھیک استری نہ ہوں تو خود استری درست کرلینا ،
میرے بچے! ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں ، تم زندگی کے محتاج ہو ، منزل کی فکر چھوڑو، اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بناؤ ، ان شاء اللّٰہ تعالٰی منزل خود ہی مل جائے گی ….!!!! اقتباس
ایسا نہیں کہ شہر میں آسانیاں نہ ہوں
لیکن وہ سب ہیں لمحۂ دشوار کے لئے
(رسول ساقی)
آئیں! صدقِ دِل سے دُعا کریں کہ اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین.
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
