قانون فطرت:

جس کے پاس "جو کچھ” ہوتا ہے وہ” وہی کچھ” بانٹتا ہے۔

محبت بانٹنا سیکھو محبت ہے عطا رب کی
محبت بانٹنے والے طویل العمر ہوتے ہیں
(بشیر مہتاب)

خوش مزاج انسان ”خوشیاں” بانٹتا ہے۔
غم زدہ انسان "غم” بانٹتا ہے۔
عالم "علم” بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین” بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان "خوف” بانٹتا ہے۔
اس لئے ہم خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔
اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔
خوش رہیں۔خوشیاں بانٹیں۔

محبت نام ہے دشمن کو بھی دل سے لگانے کا
میں اپنے پیار سے دنیا میں حیرت بانٹ دیتا ہوں
یہی عادت تو ہے سعدیؔ سکون قلب کا باعث
میں نفرت بھول جاتا ہوں محبت بانٹ دیتا ہوں
(اقبال سعدی)

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں