الاضحیٰ کے معنی قربانی کے ہیں
تَضْحِيَة (مَالِيَة و بَدَنِيَّة )(ج) تَضْحِيَّات ، اُضَحِيَّة (ج) اَضَاحِي ، ذَبِيْعَة (ج) ذَبَائِحُ ، ضَحِيَّة (ج) ضَحَايَا ، بَذُلٌ . [عام]
ان سب کا مطلب قربانی ہے
اضحٰی
اللّٰہ کی راہ میں جانور کی قربانی کرنا
بھینٹ چڑھانا
قربانی کا دن
قربانی کرنا
عید الاضحی کی آمد آمد ہے اور عید الاضحی پر قربانی کے لئے بھی لوگوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ہر فقہ کے لوگ اپنے اپنے مکتب کے مطابق عمل پیرا ہے۔ لیکن کچھ شریر قسم کے لوگ خوامخواہ دوسروں پر معترض ہوتے ہیں۔
عید قربان یا عید الاضحی (10 ذوالحجہ) مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق اس دن اللّٰہ کی طرف سے حضرت ابراہيم خلیل اللّٰہ کیلئے اسماعيل ذبیح اللّٰہ کی قربانی پیش کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابراہیمْ نے حضرت اسماعیلْ کو قربان گاہ کی طرف لے گئے اور قربانی کی قصد سے جب ان کی گردن پر چھری پھیرنا چاہا تو اللّٰہ نے جبرئيل کے ساتھ ایک مینڈھے کو بھیجا اور حضرت ابراہیمْ نے اسماعیلْ کے بدلے اس کی قربانی دی۔ اس دن سے آج تک اس واقعے کی یاد میں ادیان ابراہیمی کو ماننے والے قربانی کی اس سنت پر عمل کرتے ہیں اور بیت اللّٰہ الحرام کی زیارت یعنی حج پر مشرف ہونے والے حاجیوں پر منٰی میں معین شرائط کے ساتھ قربانی دینا واجب ہے اور یہ حج کے اعمال میں سے ایک واجب عمل ہے۔ لیکن فقہ جعفریہ کے مطابق باقی تمام جو حج ادا نہیں کررہے ہیں ان پہ مستحب ہے قربانی
حضرت ابراہیم خواب میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی پر مامور ہوئے اور عید قربان کے دن آپ نے خدا کے حکم کی بجا آوری کی خاطر اسماعیل کو سرزمین منا میں قربانی کیلئے لے گئے۔ جب منا میں جمرہ اول کے مقام پر پہنچا تو شیطان ان کے سامنے ظاہر ہوا اور حضرت ابراہیم کو ورغلانے کی کوشش کی تو حضرت ابراہیم نے سات پتھر مار کر اسے بھگایا اسی طرح جمرہ دوم اور سوم کے مقام پر یہ عمل تکرار ہوا یوں حضرت ابراہیم کا یہ عمل حج کے اعمال میں شامل ہوا اور آج ہر حاجی پر واجب ہے کہ حج کے دوران اس عمل کی پیروی کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں ماریں۔
حضرت ابراہیم، اسماعیل کو لے کر قربان گاہ میں پہنچے اور اپنے لخت جگر کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور قربانی کرتے وقت اسماعیل کی پیشانی کو زمین پر رکھا اور تیز چاقو کے ذریعے اسماعیل کا گلا کاٹنے کیلئے اس کی گردن پر چھری پھیری لیکن چھری نے گردن کو نہیں کاٹی۔ جب خدا نے باپ بیٹے کی اخلاص کو دیکھا تو ان کی قربانی کو قبول کیا اور جبرائیل کے ساتھ ایک مینڈھے کو اسماعیل کے بدلے قربانی کیلئے بھیجا یوں حضرت ابراہیم نے اس حیوان کی قربانی خدا کی راہ میں پیش کی [صافات، آیہ۱۰۴-۱۰۵.]یہاں سے قربانی کی سنت مرسوم ہوئی اور قربانی کرنا حج کے واجب ارکان میں سے ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنی بساط کے مطابق اس سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں یوں ہر سال اس دن ہزااروں لاکھوں کی تعداد میں حیوانات ذبح کرکے غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
چونکہ فقہ جعفریہ میں فقہاء و مراجع عظام (آیت اللّٰہ خامنہ ای، آقائے سیستانی و آقائے مکارم وغیرہ) کے مطابق قربانی صرف حج کرنے والوں پر واجب ہے اور ہم لوگ جو کہ حج پر نہیں ہیں، ہمارے لئے یہ حکم مستحب تاکیدی کا ہے۔ یعنی کہ قربانی کی تاکید موجود ہے بعنوان مستحب لیکن وجوب نہیں ہے۔
اب ہمارے ہاں کچھ اہلسنت برادران اس پر کافی پریشان دیکھائی دیتے ہیں۔ ان کی پریشانی کو دور کرنے کے لئے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ نظریہ صرف فقہ جعفریہ سے خاص نہیں ہے۔ اہلسنت برادران کے مایہ ناز امام، شعرانی (متوفی 973 ھجری) لکھتے ہیں:
"آئمہ ثلاثہ اور صاحبین کا قول یہ ہے کہ قربانی کرنا سنت موکدہ ہے۔ حالانکہ امام ابو حنیفہ کا قول یہ ہے کہ شہر والے مقیم لوگوں پر واجب ہے۔”
(میزان شعرانی، جلد # 2، صفحہ # 678، طبع: ادارہ اسلامیات، لاہور)
مذاہب اربعہ کی فقہی تفصیل پر مشہور و معروف کتاب الفقہ علی مذاہب اربعہ میں یہ لکھا ہے:
"(قربانی) اس حکم کی حیثیت شرعی "سنت” کی ہے، یعنی قربانی کرنا ہر شخص کے لئے سنت عین موکدہ ہے کہ اس پر عمل کرنے والا ثواب کا مستحق ہو گا لیکن ترک کرنے والے پر عذاب نہ ہو گا۔ دراصل اس پر سب متفق ہیں، لیکن حنفیہ کہتے ہیں کہ یہ سنت موکدہ ہے۔ اس کے ترک کرنے والے کو نار جہنم کا عذاب تو نہ ہو گا مگر آنحضرت (ص) کی شفاعت سے محروم رہے گا، لہذا وہ اسے واجب قرار دیتے ہیں۔”
(الفقہ علی مذاہب اربعہ، عبدالرحمن الجزیری، جلد # 1، صفحہ # 889، 890، طبع: علماء اکیڈمی، محکمہ اوقاف)
چنانچہ اسلام کے پانچ فقہی مذاہب ہیں:
1۔ احناف
2۔ شوافع
3۔ حنابلہ
4۔ مالکیہ
5۔ جعفری
ان پانچ میں سے چار کے نزدیک قربانی سنت موکدہ ہے اور صرف احناف (جو پاک و ہند کے اندر اکثریت میں ہیں) کے مطابق یہ عمل واجب ہے۔ لہذا جو اہلسنت دوست یہ سمجھتے ہیں کہ صرف فقہ جعفری کے مطابق ہی قربانی سنت موکدہ ہے وہ لوگ لاعلمی کا شکار ہیں۔
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
