” قربانی کے جانور“

پچھلے سال قربانی کے موضوع پہ پوسٹ کی تھی اس سال بھی مختلف سوالات کی وجہ سے پوسٹ دوبارہ شیئر کررہے ہیں
‎ ‏‎( اس پوسٹ میں آیت اللّٰہ سیستانی، آیت اللّٰہ خامنہ ای اور آیت اللّٰہ مکارم شیرازی
‏‎کی توضیح المسائل اور سوالات و جوابات سے استفادہ کیا گیا ہے )
‏‎بقر عید کی قربانی کے سلسلے میں گروپ پہ سوالات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ہم نے سوچا ان سوالات کو ایک جگہ جمع کرکے جوابات دے دیئے جائیں

‏‎”عید قرباں”

‏‎مستحب قربانی کے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ مہربانی فرما کر پوری پوسٹ پڑھئے گا انشاء اللَّه مفید ہوگا

‏‎سب سے پہلے یہ واضح کر دیں کہ فقہ جعفریہ میں غیر حاجی ( جو حج نہیں کر رہا ہے) صاحب استطاعت ہو نے کے باوجود بھی قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب تاکیدی / مستحب مؤکدہ ہے

‏‎واجب قربانی (جو حاجی احرام کی حالت میں کرتے ہیں ) اور مستحب قربانی کے مسائل میں اچھا خاصا فرق ہے
‏‎جس کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی حقیقت فقہ جعفریہ میں بالکل مختلف ہیں لہذا ہم کو اپنی فقہ کو فالو کرنا چاہیے اور جو لوگ ان غلط فہمیوں کی وجہ سے قربانی سے محروم ہو جاتے ہیں وہ بھی اس عظیم ثواب میں شامل ہو جائیں

‏‎اب آتے ہیں ان غلط فہمیوں کی طرف

“غلط فہمیاں ”

پہلی غلط فہمی:-
‏‎//کٹے ہوئے کان والا، سینگ ٹوٹا وغیرہ وغیرہ کی قربانی نہیں ہو سکتی ہے؟ //

‏‎جواب:
عید الاضحی پر مستحب قربانی میں عیب دار جانور مثلاََ اندھا، لنگڑا ، کٹے ہوئے کان والا، ٹوٹی ہوئی ہڈی والا، ٹوٹے ہوئے سینگوں والا ،خصّی ، بہت بوڑھا و کمزور و لاغر بھی قربان کیا جا سکتا ہے
البتہ احتیاط اور افضل و بہتر یہی ہے کہ جانور صحیح و سالم اور موٹا ہو
‏‎نر و مادہ کا بھی کوئی فرق نہیں۔

‏‎بہت سے افراد جو زیادہ پیسے قربانی پر خرچ نہیں کر سکتے وہ اس طرح کے کم خرچ جانور کی قربانی کر سکتے ہیں اسے حرام سمجھ کر بالکل ہی ثواب سے محروم نہ رہ جائیں

‏‎دوسری غلط فہمی:-
‏‎// اونٹ میں دس حصے گائے میں سات اور بکرا میں کوئی حصہ نہیں ہوتا //

‏‎ جواب:-
مستحب قربانی میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں حتی کہ ایک بکرے میں بھی آپ تمام گھر والوں کا حصہ ڈال سکتے ہیں
‏‎اور تمام مرحومین و زندہ کی طرف سے حصہ ڈال سکتے ہیں
‏‎مستحب قربانی میں جائز ہے کہ انسان خود اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک جانور کو قربان کرے اور اسی طرح قربانی میں کثیر تعداد کا حصہ ڈالنا جائز ہے وہ چاہیے کوئی بھی قربانی والا جانور ( اونٹ، گائے، بھینس، بکرا، بھیڑ،بکری، دنبہ) ہو

‏‎کسی بھی ايک جانور ميں سات يا سات سے كم افراد كے شريک كرنے كى كوئى قيد نہيں ہے بلكہ جتنے افراد چاہيں ان كى طرف سے ايک جانور ميں حصہ ڈالا جا سكتا ہے

‏‎تیسری غلط فہمی:-
‏‎//قربانی کے جانور میں حصہ برابر ڈالنا چاہیے کم یا زیادہ نہ ہو//
‏‎ جواب:۔
مستحب قربانی میں شرکت کے لیے لوگوں کی رقم کا برابر ہونا ضروری نہيں ہے
‏‎مثلاً ایسا کیا جا سکتا ہے ایک بکرے یا کسی بھی جانور میں ایک آدمی 1000 ڈالتا ہے تو دوسرا 5000 ڈال سکتا ہے تو تیسرا 10,000 وغیرہ وغیرہ

‏‎ چوتھی غلط فہمی:-
‏‎//جتنے حصے ڈالے گئے بس اتنے شخص کی طرف سے قربانی ہو گی اور مکمل قربانی نہیں مانی جاتی//

‏‎جواب:۔
ایسا نہیں اگر ہم ایک حصہ بھی ڈالتے ہیں تو اس میں اپنے سب گھر والوں و مرحومین کی نیت کر لیں تو بھی سب کی طرف سے قربانی مانی جائے گی

‏‎اللَّه تعالٰی ہمارا کا خلوص دیکھنا چاہتا ہے

‏‎”رسول اللَّه ص ایک جانور ذبح کرتے وقت فرماتے تھے کہ یا اللَّه یہ قربانی میری , میرے اہلبیت اور تمام امت کی طرف سے قبول فرما….”

‏‎یعنی کوئی حد ہی نہیں ہے جتنی مرضی لوگوں کو ایک قربانی میں شامل کیا جاسکتا ہے

‏‎پانچویں غلط فہمی:-
‏‎//دو دانت ہونا چاہیے //

‏‎جواب:۔
دو دانت والی کوئی شرط نہیں بس عمر کو دیکھنا ہوتا ہے

‏‎قربانی کے جانور میں معتبر ہے کہ وہ انعام ثلاثہ ہو (اونٹ، گائے،بھینس،بکرا اور بھیڑ،بکری،دنبہ )میں سے ہو

‏‎عمر کتنی ہو

‏‎احتیاط کی بنا پر اونٹ کے پانچ سال مکمل ہو جائیں(اس سے کم کا نہ ہو) اور چھٹے میں داخل ہو

‏‎گائے اور بھینس اور بکرا کے لیے ضروری ہے کہ دو سال مکمل ہو جائیں اس سے کم نہ ہو

‏‎بھیڑ اور دنبہ کے سات ماہ مکمل ہو جائیں اس سے کم نہ ہو

آیت اللَّه خامنہ ای کا الگ سے جواب یہ ہے 👇
قرباني کے جانور میں درج ذیل شرائط اور خصوصیات ہونا ضروری ہیں۔
عمر، بنابر احتیاط واجب اونٹ چھٹے سال ميں داخل ہوچکا ہو اور گائے اور بکری تيسرے سال ميں اور گوسفند دوسرے سال ميں داخل ہوئے ہوں اور مذکورہ عمر کی حد بندی، جانور کی کمترین عمر کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے لیکن زیادہ عمر کے بارے میں کوئی حد نہیں ہے اور قربانی کی عمر اس سے زیادہ ہو تو بھی کافی ہے اس شرط پر کہ جانور زیادہ بوڑھا نہ ہو۔

‏‎چھٹی غلط فہمی:-
‏‎//قربانی عید کی نماز پڑھ کر ہی کرنی چاہیے//

‏‎جواب:-
ایسا نہیں ہے مستحب قربانی میں عید الضحیٰ پڑھنے کی کوئی شرط نہیں
‏‎قربانی کا وقت طلوع آفتاب کے بعد شروع ہو جاتا ہے اور طلوع آفتاب کے بعد قربانی کا افضل وقت عید کے پہلے دن نماز عید پڑھنے کی مقدار گزر جانے کے بعد ہے

‏‎ساتویں غلط فہمی:-
‏‎//کپورے مکروہ ہے//

‏‎جواب:-
کپورے یا فوطے (نر جانور کی اگلی شرمگاہ ) حرام ہے حتی کہ باقی فقہ میں بھی حرام ہے

‏‎غلط فہمی:-
‏‎//جس کو قربانی کرنی ہیں وہ بال و ناخن نہیں کاٹ سکتا//

‏‎جواب:-
ضرورى نہيں ہے كہ جس شخص کو قربانى كرنى ہے وہ اپنے بال اور ناخن نہ كاٹے ۔ جو شخص قربانى كرنا چاہتا ہے وہ شخص ناخن اور بال كاٹ سكتا ہے ۔ البتہ جو شخص حج تمتع كرنا چاہتا ہے اس كے ليے مستحب ہے كہ وہ اپنے بال چھوڑ دے اور منى ميں حلق كر كے كٹوائے ۔
نيز يہ عمل غير حاجيوں كے ليے نہيں ہے

‏‎اس کے علاوہ اور بھی غلط فہمیاں ہو گی لیکن ہم نے اہم اہم بیان کی ہیں

‏‎امید آپ سب اس سے استفادہ کریں گے اور وہ مومنین جو آجکل کی مہنگائی کے دور میں ان تمام شرائط کو دیکھتے ہوئے قربانی نہیں کر سکتے لیکن ضروری نہیں وہ بھی آپس میں کثیر تعداد میں حصہ ڈال کر اس ثواب میں شامل ہو سکے گے انشاء اللہ

‏‎آخر میں ہم دعا گو ہیں کہ خداوندعالم ہمیں صحیح معنوں میں سیرت معصومین علیہم السلام پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. (امین)

‏‎ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں