”غیر شیعہ اور واقعہ غدیر“

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
حدیث غدیر امام حنبل کی نگاہ میں
امام احمد حنبل نے اپنی مسند میں یوں بیان کیا ہے:
حدثنا عبد اللّٰہ، حدثنی ابی، ثنا عفان، ثنا حماد بن سلمہ، انا علی بن زید، عن عدی بن ثابت ، عن البراء بن عازب، قال: کنا مع رسول اللّٰہ[ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم] فی سفر فنزلنا بغدیر خم فنودی فینا: الصلاۃ جامعۃ، و کسح لرسول اللّٰہ [ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم] تحت شجرتین فصلی الظھر و اخذ بید علی [رضی اللّٰہ عنہ] فقال: الستم تعلمون انی اولی بکل مومن من نفسہ؟ قالوا: بلی ، قال فاخذ بید علی فقال: من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ۔ قال فلقیہ عمر بعد ذلک فقال لہ: ھنیئا یابن ابی طالب اصبحت و امسیت مولی کل مومن و مومنۃ۔ [امدي، علي‌ بن محمد؛ الاحكام؛ بيروت: مؤسسه النور، 1387ق.]
براء بن عازب کا کہنا ہے: ایک سفر میں ہم رسول اللّٰہ [ ص] کے ہمراہ تھے غدیر خم کے مقام پر پہنچے ایک آواز دی گئی: الصلاۃ جامعۃ، [ نماز جماعت کے لیے تیار ہو جاو] دو درختوں کے نیچے رسول خدا [ص] کے لیے انتظام کیا گیا رسول اللّٰہ نماز بجا لائے اور پھر حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
کیا میں سب کی جان و مال کا مالک نہیں ہوں؟
سب نے کہا: ہاں آپ ہماری جان و مال کے مالک ہیں۔
پھر آپ نے فرمایا:
جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علیْ مولا ہیں خدایا اس کو دوست رکھ جو علیْ کو دوست رکھےاور اس سےد شمنی رکھ جو علیْ سے دشمنی کرے۔ پھر حضرت عمر آپْ کے گلے ملے اور کہا مبارک ہو اے ابو طالب کے بیٹے تم نے صبح وشام کی ہے اس حالت میں کہ تم ہر مومن مرد و عورت کے مولا ہو۔
یہ روایت[مسند احمد ] میں مختلف مقامات پربہت زیادہ سندوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔[ابن ابي‌ الحديد؛ شرح نهج‌البلاغه؛ بيروت: داراحياء الكتب العربيه،]

حافظ ابن عبداللہ نیشاپوری نے مستدرک میں مختلف الفاظ میں مختلف مقامات پر حدیث غدیر کو نقل کیا ہے۔منجملہ:
حدثنا ابوالحسین محمد بن احمد بن تمیم الحنظلى ببغداد، ثنا ابوقلابة عبدالملک بن محمد الرقاشى، ثنا یحیى بن حماد، وحدثنى ابوبکر محمد بن احمد بن بالویه وابوبکر احمد بن جعفر البزاز، قالا ثنا عبدالله بن احمد بن حنبل، حدثنى ابى، ثنا یحیى بن حماد و ثنا ابونصر احمد بن سهل الفقیه ببخارى، ثنا صالح بن محمد الحافظ البغدادى، ثنا خلف بن سالم المخرمى، ثنا یحیى بن حماد، ثنا ابوعوانة، عن سلیمان الاعمش، قال ثنا حبیب بن ابى ثابت عن ابى الطفیل، عن زید بن ارقم ـ رضى اللّه عنه ـ قال: لمّا رجع رسول اللّه ـ صلى اللّه علیه وآله وسلم ـ من حجة الوداع ونزل غدیرخم امر بدوحات فقممن فقال: کانّى قد دعیت فاجبت. انى قد ترکت فیکم الثقلین احدهما اکبر من الآخر: کتاب اللّه تعالى وعترتى فانظروا کیف تخلفونى فیهما فانّهما لن یفترقا حتى یردا علىّ الحوض. ثم قال: ان اللّه ـ عزّ وجلّ ـ مولاى وانا مولى کل مؤمن. ثم اخذ بید علی ـ رضى اللّه عنه ـ فقال: من کنت مولاه فهذا ولیّه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه. و ذکر الحدیث بطوله. هذا حدیث صحیح على شرط الشیخین ولم یخرجاه بطوله.[ابن ابي‌ شيبه كوفي؛ لامصنف؛ بيروت: دارالفكر،]
اسی کتاب میں اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد دوسری سندوں کے ساتھ اسی روایت کو تکرار کیا ہے دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ جملہ” من کنت مولاہ ” سے پہلے کہتے ہیں:
ثم قال: أن تعلمون انى اولى بالمؤمنین من انفسهم ثلاث مرات قالوا: نعم فقال: رسول اللّه ـ صلى اللّه علیه وآله ـ من کنت مولاه فعلى مولاه.[ابن‌ اثير، علي؛ اسدالغابه؛ تهران: اسماعيليان]
اقتباس
باقی آئندہ

سن کسی مجذوب سے ایک بار روداد‌ غدیر
خم کے منبر پر علیْ کا مرتبہ کچھ اور ہے
(عفت عباس)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”

“”غیر شیعہ اور واقعہ غدیر“” پر 1 تبصرے

تبصرہ کریں