گذشتہ سے پیوستہ
غدیر منزل مقصود ہے رسولوں کی
غدیر فتح ہے اسلام کے اصولوں کی
حدیث غدیر سنن ابن ماجہ اور ترمذی میں
ابن ماجہ لکھتے ہیں:
حدثنا على بن محمد، ثنا ابوالحسین، اخبرنى حماد بن سلمه، عن على ابن زید بن جدعان، عن عدىّ بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال: اقبلنا مع رسول اللّه ـ صلى اللّه علیه وآله ـ فى حجّته التى حجّ فنزل فى بعض الطریق فامر الصلاة جامعة فأخذ بید علی فقال: ألست اولى بالمؤمنین من انفسهم؟ قالوا: بلى قال: الست اولى بکل مؤمن من نفسه؟ قالوا: بلى. قال: فهذا ولىّ من أنا مولاه، اللهم وال من والاه اللهم عاد من عاداه۔[ابن الجارود نيشابوري؛ المنتقي؛ بيروت: مؤسسه الكتب الثقافيه]
ترمذی بھی ” سنن” میں اسی مضمون کے ساتھ اس حدیث کو نقل کرتے ہیں۔[ابن الدمياطي، المستفاد؛ بيروت: دارالكتب العلميه]
اہل سنت محقیقین:
ضیاء الدین مقبلی کا کہنا ہے: اگر حدیث غدیر قطعی اور یقینی نہیں ہے تو کچھ بھی دین اسلام میں قطعی اور یقینی نہیں ہے۔
غزالی کہتے ہیں: جمہور مسلمین کا اجماع ہے حدیث غدیر کے متن پر۔
بدخشی کہتے ہیں: حدیث غدیر صحیح حدیث ہے کوئی اس کی صحت پر شک نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کے اندر تعصب کی آگ جل رہی ہو کہ ایسے شخص کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔
آلوسی کا کہنا ہے: حدیث غدیر، صحیح حدیث ہے جس کی سند میں کوئی مشکل نہیں ہے اور ہمارے نزدیک اس کی صحت ثابت ہے ۔ رسول اللّٰہ [ص] سے بھی اور حضرت علی [ع] سے بھی تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔
حافظ اصفہانی کہتے ہیں: حدیث غدیر صحیح حدیث ہے کہ صحابہ میں سے سو افراد نے اسے نقل کیا ہے اور ” عشرہ مبشرہ” بھی انہیں سو آدمیوں میں سے ہیں۔[ابنخلدون؛ تاريخ ابن خلدون؛ بيروت: مؤسسه الاعلمي]
حافظ سجستانی کا کہنا ہے کہ حدیث غدیر ایک سو بیس صحابیوں کے ذریعے نقل ہوئی ہے اور حافظ اب العلاء ھمدانی نے ایک سو پچاس افراد کو بیان کیا ہے۔[ابن خلكان، احمد بن محمد؛ وفيات الاعيان؛ بيروت: داراحياء التراث العربي]
حافظ ابن حجر عسقلانی ” تہذیب التھذیب” میں حدیث غدیر کے بعض راویوں کو بیان کرنے کے ضمن میں اس کے طرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ابن جریر طبری نے حدیث غدیر کی اسناد کو ایک کتاب کے اندر جمع کیا ہے اور اسے صحیح السند حدیث شمار کیا ہے اور ابو العباس ابن عقدہ نے بھی اسے صحابہ میں سے ستر افراد کے ذریعے سے نقل کیا ہے۔ [ابن سعد، محمد؛ الطبقات الكبري؛ بيروت: دار صادر]
نیز کتاب” فتح الباری بشرح صحیح البخاری” میں آیا ہے:
حدیث” من کنت مولاہ فعلی مولاہ” کو ترمذی اور نسائی نے نقل کیا ہے اور اس کے نقل کے راستے اور سندیں بہت زیادہ ہیں کہ ان سب کو ابن عقدہ نے ایک مستقل کتاب میں ذکر کیا ہے اور اس کی بہت ساری سندیں صحیح اور حسن ہیں۔ اور ہمارے لیے امام احمد حنبل سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جو کچھ علی [ع] کے فضائل کے سلسلے میں مجھ تک پہنچا ہے صحابہ میں سے کسی ایک کے بارے میں نہیں ملتا۔ [ابن عساكر، ابوالقاسم؛ تاريخ مدينه دمشق؛ بيروت: دارالفكر، 1995م.]
قندوزی حنفی حدیث غدیر کو مختلف اسناد سے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
محمد بن جریر الطبری نے حدیث غدیر کو پچھتر طریقوں سے نقل کیا ہے اور ایک مستقل کتاب بنام ” الولایۃ” اس کے بارے میں تالیف کی ہے۔ نیز ابو العباس احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے ایک کتاب تالیف کی جس میں ایک سو پچاس طریقوں سے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے۔[ابن قتيبه دينوري؛ الامامة والسياسة؛ قم: شريف رضي]
حافظ محمد بن محمد الجزری الدمشقی نے امیر المومنین[ع] کے حدیث غدیر سے احتجاج کرنے کو نقل کرتے ہوئے یوں لکھاہے:
یہ حدیث حسن ہے اور یہ روایت تواتر کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے جیسا کہ رسول اسلام سے بھی تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے بہت سارے گروہ نے بہت سارے دوسرے گروہوں سے اس حدیث کو نقل کیا ہے پس جو لوگ اس حدیث کی سند کو ضعیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی باتوں کی طرف توجہ دینا فضول ہے۔ اس لیے کہ وہ علم حدیث سے بے خبرہیں۔[ابن كثير، اسماعيل؛ تفسير القرآن الكبير؛ بيروت: دارالمعرفة، 1992م]
ابن حجر لکھتے ہیں:
حدیث غدیر، صحیح حدیث ہے کہ جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ اور اسے ترمذی، نسائی او احمد حنبل جیسوں نے نقل کیا ہے اور بہت سارے طریقوں سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے منجملہ اصحاب میں سے سولہ افراد نے اسے نقل کیا ہے اور احمد بن حنبل کی روایت میں آیا ہے کہ اسے تیس صحابیوں نے رسول اسلام [ص] سے سنا اور جب امیر المومنین کی خلافت پر جھگڑا ہوا تو انہوں نے گواہی دی۔[ابن هشام، محمد؛ سيرة النبي؛ مصر: مكتبة محمد]
پھر دوسری جگہ تکرار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
حدیث غدیر کو تیس صحابیوں نے رسول اللّٰہ [ص] سے نقل کیا ہے اور بہت سارے اس کے نقل کے طریقے صحیح یا حسن ہیں۔[ابن مزاحم منقري، نصر؛ واقعة الصفين؛ قاهر: مدني]
پس خود اشکال کرنے والوں کی نظر میں جیسے ابن حجر وغیرہ کہ جنہوں نے اس حدیث کی صحت پر اشکال کیا ہے توجہ نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ ابن حجر خود دوسری جگہ کہتے ہیں: ولا التفات لمن قدح فی صحتہ۔[ابي داوود، ابن اشعث؛ سنن ابي داوود؛ بيروت: دارالفكر][ اس شخص کی بات پر کوئی توجہ نہیں کی جائے گی جو حدیث غدیر کے صحت پر شک کرے]۔
استاد محمد رضا حکیمی اپنی کتاب ” حماسہ غدیر” میں اہل سنت کے ۱۵ معاصر علماء کے نام بیان کرتے ہیں جنہوں نے حدیث غدیر کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں: احمد زینی دحلان، محمد عبدہ مصری، عبد الحمید آلوسی، احمد فرید رفاعی، عمر فروخ۔[احمد بن حنبل؛ فضائل الصحابه؛ بيروت: دارالكتب العلميه]
اقتباس
متاعِ کون و مکاں کو غدیر کہتے ہیں
چراغ خانہٴ جاں کو غدیر کہتے ہیں
صداقتوں کی زباں کو غدیر کہتے ہیں
عمل کی روح رواں کو غدیر کہتے ہیں
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
