گذشتہ سے پیوستہ
کیا جو خالقِ ہستی نے اہتمام غدیر
سنایا احمدِ مختار نے پیام غدیر
پڑھا تھا جسکو نبی نے بحکم رب جلیل
سناؤ تم بھی غدیری وہی کلام غدیر
شواہد و قرائن اصحاب رسول سے لیکر تابعین تک،
مفسرین قرآن سے لے کر مؤرخین تک اور مؤلفین غدیر سے لے کر ادباء و شعراء تک سب کے سب اس امر کی فیصلہ کن، قطعی اور ناقابل انکار تصدیق کرتے ہیں کہ غدیر کا واقعہ اسلام کے تاریخی، کلامی اور تفسیری مسلمّات کا ایک حصہ ہے۔ اور اس سلسلے میں کسی قسم کے انکار اور شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ابو یعلی موصلی نے روایت کی ہے کہ ابو ہریرہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے۔ کچھ لوگوں نے من جملہ ایک جوان نے ان کو گھیر لیا۔
اس جوان نے پوچھا: تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں بتاؤ کیا تم نے پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:
مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلِی مَوْلاهُ، اللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ.؟
ابو ہریرہ نے کہا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔
تتمۂ حدیث کو ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ کی ج 1 ص 360 پر یوں نقل کیا ہے:
اس جوان نے کہا: اب جب کہ تم نے اسے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے تو میں شہادت دیتا ہوں کہ تم نے اس کے دشمن کے ساتھ دوستی کی ہے۔ (معاویہ کے ساتھ دوستی کی ہے) یہ کہہ کر وہ جوان چلا گیا
واقعہ غدیر ایک وسیع اور شہرہ آفاق واقعہ ہے کہ جو اس وقت کے مسلمانوں کی زندگی میں رچ بس چکا تھا۔
غدیر منزلِ انعام جا ودانی ہے
غدیر مذ ہبِ اسلام کی جوانی ہے
غدیر دامن صدق و صفا کی دولت ہے
غدیر کعبہ و قر آن کی ضما نت ہے
غدیر سر حدِ معراج آدمیت ہے
غدیر دین کی سب سے بڑی ضرورت ہے
غدیر مبارک
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
