پردہ اسی وقت پردہ ہے جب تک ہماری آنکھوں پر پڑا ہو اس کے لۓ وہ چھپا ہی کہاں ہے جو صاحب پردہ کو جانتاہو ۔
پردہ تو زمانہ کی نگاہوں پہ پڑا ہے
اور کچھ پردے تو پڑتے ہی لطف کے ہیں یعنی جب تک وہ پردہ پڑا ہے تب تک مخفی شۓ سے لطف اندوز و محظوظ ہوئیے لیکن جیسے ہی وہ پردہ ہٹ جاۓ گا اس وقت صرف تکلیفی صورت باقی رہ جاۓ گی ۔
محرم نہیں ہے تو ہی نواہاے راز کا
ورنہ یہاں جو پردہ ہے پردہ ہے ساز کا
شاید امام زمانہ کا پردہ بھی لطف کا ہے کہ جب یہ اٹھ جاۓ گا تو سارے اسرار فاش ہو جاۓ گے اور امام کا پردۂ غیب سے آنا ساری کائنات کے چھپے چہروں سے پردہ اٹھانا ہے ۔ جب تک پردہ پڑا ہے تب تک امام کے تصوّروجود سے لطف اٹھائیے لیکن جس دن یہ پردہ اٹھ جاۓ گا اس دن کائنات کے سارے پردہ اٹھ جاۓ گے پھر صرف تکلیفی شکل باقی رہ جاۓ گی ۔ فلسفۂ غیبت یہ ہے کہ ہم امام عج کے غیبت کے دور ہی میں اپنے ایمان کو استوار اور عمل کی اصلاح کر لیں اور اس مہلت غنیمت کو ہاتھ سے جانے نہ دیں،
آج قول و لطف و ارشاد معصوم ہے،
کل تلوار و قتل و انتقام ہو گا ۔
اور
وَ قاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّةً کَما یُقاتِلُونَکُمْ کَافَّة
اور تم، سب مشرکین سے لڑو جیسا کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں (توبہ /36)
کی تعبیری صورت ہو گی ۔
ہم نے مانا تیری ہر بات سند ہوتی ہے
اور کچھ پوتے میں بھی فطرتِ جد ہوتی ہے
تین دن کعبے میں حیدرْ نے کیا تھا پردہ
پردہ کرتے ہیں مگر پردے کی حد ہوتی ہے
یا صاحب الزمان العجل
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
” روبی عابدی"
