”خودستائی و خود پرستی“۔ (اپنی تعریف آپ کرنا)

آج قرآن کی سورہ النجم کی آیت نمبر 32 کی تفسیر پڑھتے ہوئے اس کے آخری حصے کی تفسیرپہ بری حالت ہوگئی اور پورا جسم کانپنے لگا

پروردگار سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس خودستائی سے محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین

فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ

پس اپنے نفس کی پاکیزگی نہ جتاؤ،

(سورہ النجم کی آیت 32 کا حصہ)

تفسیر:

جب اللّٰہ تمہاری حالت پر خود تمہارے وجود میں آنے سے پہلے باخبر ہے تو تم اپنے نفس کی پاکیزگی کے دعوے نہ کرو۔ اللّٰہ بہتر جانتا ہے تمہارے دعوے کہاں تک درست ہیں۔ اگر اس کا مقصد لوگوں کے سامنے اپنی پاکیزگی کا اظہار کرنا ہے تو یہ خود ستائی اور خود بینی ہے جو بندگی کے سراسر خلاف ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے:

سَیِّئَۃٌ تَسُوئُ کَ خَیْرٌ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ حَسَنَۃٍ تُعْجِبُکَ۔

( نہج البلاغۃ حکمت: 46)

وہ گناہ جو خود تجھے برا لگے اللّٰہ کے نزدیک اس نیکی سے بہتر ہے جو تجھے خود پسندی میں مبتلا کر دے۔

بلکہ انسان کا لوگوں کے سامنے اپنے اعمال کا ذکر بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے

فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ کے بارے میں پوچھا تو

آپ نے فرمایا:

قَولُ الْاِنْسَانِ صَلَّیْتُ الْبَارِحَۃَ وَ صُمْتُ اَمْسِ وَ نَحْوَ ھَذَا۔۔۔ (الوسائل ۱: ۷۴)

انسان کا یہ کہنا خود ستائی ہے کہ ہم نے رات نماز پڑھی کل روزہ رکھا اور اسی طرح کی باتیں (مختلف باتیں)

اہم نکتہ:

۔ لوگوں کے سامنے اپنے اعمال اور دینی خدمات کے ذکر سے عمل کی قیمت ختم ہو جاتی ہے۔

تفسیر الگوثر

مٹی کی مورتوں کا ہے میلہ لگا ہوا

آنکھیں تلاش کرتی ہیں انسان کبھی کبھی

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

روبی عابدی

تبصرہ کریں