”استعیذ بالسمیع العلیم من الشیطان الرجیم “

ایک روایت میں آیا ہے که جبریل امین (ع) نے جو پهلى چیز پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن مجید کے بارے میں بتائی وه یه تھی:
اے محمد!
کهدو: استعیذ بالسمیع العلیم من الشیطان الرجیم
اس کے بعد کهدو:
"بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم * اقرا باسم ربک الذی خلق
[مستدرک الوسائل ج 4، ص 265ـ4 الشیخ ابو الفتوح الرازی فی تفسیره عن عبدالله ابن عباس قال انه نزلت او اول ما قاله جبریل لرسول الله ص فی امر القرآن ان قال له یا محمد قل استعیذ یالسمیع العلیم من الشیطان الرجیم ثم قال بسم الله الرحمن الرحیم اقرا باسم ربک الذی خلق]“

البته یه چاہنا صرف لفظ و بات تک محدود نهیں ہونا چاہئے بلکه لفظ کو ہماری روح و جان کی گهرائیوں میں اثر کرنا چاہئے، اس طرح که ہم قرآن کی تلاوت کرتے وقت شیطان صفتوں سے دور رہیں اور الٰهی صفتوں کے نزدیک ہو جائیں تاکه کلامِ حق کو سمجھنے کی راه میں موجود موانع اس کى فکرسے دور ہوجائیں اور حقیقت کے دلربا جمال کو صحیح طور پر دیکھـ سکیں ـ [تفسیر نمونه، ج 11، ص: 401 و 402]

اس بناپر قرآن کی تلاوت کے آغاز پر شیطان سے اللّٰہ کى طرف پناه چاہنا ضرورى ہے اور پورى تلاوت کے دوران یه حالت جاری رہنى چاہئے،
اگر چه زبان پر نه ہو ـ

خدا کو پا نہیں سکتا خدا کی ذات کا منکر
نہ جب تک دل سے نقص نا تمامی دور ہو جائے
خدا وہ ہے کہ جس کی عظمت و جبروت کے آگے
خود انسان سجدہ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے
(احسان دانش)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں