اختلافِ رائے اور اختلافات

اختلافِ رائے کی بنیاد پر دوسروں کی ذات کی نفی وہی کرتے ہیں
جو خود سے اختلاف کو اپنی ذات کی نفی سمجھتے ہیں۔
اختلاف کرنے والے سے نفرت کرنا
ذات کی نفی کرنے سے اگلا درجہ ہے
اور لوگوں کی اکثریت اسی درجے پر فائز ہوتی ہے۔
(اقتباس)

چمن میں اختلاف ر نگ و بو سے بات بنتی ہے
ہمیں ہم ہیں، تمہیں تم ہو، تو کیا تم ہو؟
(سرشار)

‎جو ہم سے ایک معاملے پر اختلافِ رائے رکھتے ہیں، عین ممکن ہے کسی
اور معاملے میں وہ ہم سے اتفاقِ رائے رکھتے ہوں۔
‎ممکن ہے اختلافِ رائے ہونے کے باوجود وہ ہم سے محبت کرتے ہوں، پیٹھ پیچھے ہماری عزت اور مفادات کا تحفظ کرتے ہوں، مشکل وقت میں کبھی ہمارے کام آئے ہوں یا آئندہ کبھی کام آجائیں۔
‎پس اختلافِ رائے کو کبھی اختلافات کا باعث نہ بنائیں کہ یہ بڑی کم ظرفی کی بات ہے اور اختلافات کے ڈر سے کبھی اختلافِ رائے نہ چھوڑنا کہ اس سے انسانی سوچ کا ارتقائی عمل رُک جاتا ہے۔

‎اختلافِ رائے سنیں اور محبت کریں
‎اختلافِ رائے کریں اور احترام کریں
‎لیکن جہاں اختلافِ رائے احترام سے نہ کیا جائے
‎اور محبت سے نہ سنا جائے
‎وہاں صرف محبت اور احترام کریں
‎وہاں اختلافِ رائے کبھی نہ کریں۔

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے
(اعجاز رحمانی)

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں