اسلام کسے زندہ کہتا ہے اور کسے مردہ کہتا ہے
جاہل تمھیں چلتا پھرتا لڑتا مرتا نظر آرہا ہو مگر وہ مردہ ہے جہالت موت ہے علم کیا ہے عالم کا جنازہ جارہا ہو لیکن اگر وہ عالم ہے تو وہ مردہ نہیں ہے وہ زندہ ہے
جب تک ہم جہالت کو دور نہیں کریں گے
ہم زندہ قوم نہیں کہلا سکتے ہیں
تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی
جہالت جہاں آتی ہے وہاں کمزوری ہوتی ہے اور علم جہاں آتا ہے وہاں طاقت ہوتی ہے
اسلام کی نظر میں جہل تمام برائیوں کا سر چشمہ ، عظیم ترین مصیبت، مہلک و بدترین بیماری اور خطرناک ترین دشمن ہے ۔ جاہل انسان روئے زمین پر چوپائے سے بدتر، بلکہ زندوں کے درمیان ایک لاش ہے ۔
رسول اللّٰہ نے فرمایا: جاہل وہ ہے جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے چاہے خوبصورت اوربا حیثیت ہی ہو۔
امام علی (ع) نے فرمایا:
1- جاہل مردہ ہوتا ہے چاہے زندہ ہی کیوں نہ ہو۔
2- عالم مردوں کے درمیان زندہ اور جاہل زندوں کے درمیان مردہ ہے ۔
3- اگر جاہل خاموش رہتے تو لوگوں میں اختلاف نہ ہوتا۔
4- کتنے ہی معزز افراد کو جہالت نے ذلیل کر دیا ۔
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہ گئی
نادان کو اُلٹا بھی تو نادان رہا
(امجد حیدرآبادی)
اسلام کی نگاہ میں جہل ایسی آفت ہے کہ جوانسان کی رونق اور خوبیوں کو پامال کر دیتا ہے اور تمام اجتماعی و فردی برائیوں کا سر چشمہ ہے ، جب تک یہ آفت جڑ سے نہیں اکھاڑی جائیگی اس وقت تک فضیلتیں ابھر کر سامنے نہیں آ سکتیں اور نہ ہی انسانی معاشرہ وجود پذیر ہو سکتا ہے۔
اسلام کی نظر میں جہل تمام برائیوں کا سر چشمہ ، عظیم ترین مصیبت، مہلک و بدترین بیماری اور خطرناک ترین دشمن ہے ۔ جاہل انسان روئے زمین پر چوپائے سے بدتر، بلکہ زندوں کے درمیان ایک لاش ہے ۔
دعا ہے پروردگار ہم سب کو ایسے علم کو سمجھنے کی اور علم کو حاصل کرنے کی توفیق دے جو کہ ہماری قوم کو ایک زندہ قوم بنا دے
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “
