”موت کو حقیقت سمجھنا اور اس پر فکر کرنا:“

اس حقیقت کو سمجھنا چاہئیے اور اس پر غور و فکر کرنا چاہئیے
کہ موت ہر ایک کے لیے ہےاور یہ ایک حقیقت ہے

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والاہے اس کے بعد تم سب ہماری بارگاہ میں پلٹا کر لائے جاؤ گے (عنکبوت، 57)

چونکہ تمام مخلوقات، پروردگار کی تجلی ہیں اور اسی سے ہیں اور آخرکار اس کی طرف پلٹ کر جائیں گے

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
” ہم اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں۔ (سورہ البقرہ/156)

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
(جون ایلیا)

انسان کے اللّٰہ پر ایمان کی نشانیوں میں سے، قرآن مجید کا مذکورہ جملہ دہرانا ہے کہ یہ معاد کی یاد دلاتا ہے، دل کو تسکین و آرام بخشتا ہے، اور جس قدر اس کی تلقین کی جائے حقیقت کے قریب تر ہوگا، غم و اندوہ کو دور کر کے دل کو آرام و سکون بخشے گا۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
(چکبست برج نرائن)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں