پہلا درجہ: ہمارا محسن ہم پر احسان کرنے کے بعد کبھی انجانے میں تکلیف پہنچا بیٹھے تو اس پر صبر کرنا۔
دوسرا درجہ: اپنے محسن کے احسان کا بدلہ چکانے کی کوشش کرنا۔
تیسرا درجہ: اپنے محسن کے احسان کو اس کا فرض نہ سمجھنا۔
چوتھا درجہ: اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنا۔
پانچواں درجہ: اپنے محسن کے احسان میں نقص نہ نکالنا۔
چھٹا درجہ: اپنے محسن کو احسان کے بدلے میں نقصان نہ پہنچانا۔
اور اگر ہم اپنے محسن کی قدر دانی کے آخری درجے پر بھی عمل نہیں کرتے تو یقین کرلیں کہ پھر ہم انسانیت کے درجے پر ہی فائز نہیں
کیونکہ اپنے محسن اور اس کے حقوق کی پہچان سے عاری ہو کر اسی پر حملہ آور ہوجانا سراسر حیوانیت ہے۔
(اقتباس: نعمان )
یہ ہے کہ جھکاتا ہے مخالف کی بھی گردن
سن لو کہ کوئی شے نہیں احسان سے بہتر
(اکبر الہ آبادی)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
