حقیقت کیا ہے؟ (پوسٹ نمبر 4)

گزشتہ سے پیوستہ:

کیا یہ حقیقت ہے کہ امام زمان (عج) ظہور کرنے کے بعد ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کریں گے ؟

یہ روایات سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور ان جیسی ضعیف روایات سے استناد اور استدلال کرنا، یہ بات اس انسان کے حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بغض ، کینے اور اس شخص کی جہالت پر دلالت کرتی ہے
مزید:
اور پروردگار نے قرآن میں رسول اللّٰہ کے اخلاق کے بارے میں فرمایا ہے کہ:
وَإِنَّكَ لَعَلي خُلُقٍ عَظيم .
اور بے شک آپ کا اخلاق بہت اعلی و عظیم ہے۔
(سورہ قلم آیت 4)
اسی طرح حضرت مہدی (عج) کا اخلاق بھی اپنے جدّ کی طرح اعلی و عظیم ہو گا۔
لہذا رسول اللّٰہ(ص) نے اگر اپنے دور میں ایسی قتل و غارت کی تھی، تو انکے اہل بیت میں سے انکا بارہواں جانشین بھی ایسی قتل و غارت کرے گا اور
اگر رسول برحق نے ایسا نہیں کیا تو حضرت مہدی (عج) بھی ایسا ہرگز انجام نہیں دیں گے، کیونکہ صحیح روایات کے مطابق حضرت مہدی (عج) کا اخلاق و کردار بھی بالکل رسول اللّٰہ (ص) کے اخلاق و کردار جیسا ہے۔
شيخ كلينی نے كتاب شريف كافی اور شيخ صدوق نے كتاب عيون اخبار الرضا میں ذکر کیا ہے کہ حضرت مہدی بھی رحمۃ للعالمین ہیں:
أُخْرِجُ مِنْهُ (علي بن محمد الهادي) الدَّاعِيَ إِلَي سَبِيلِي وَ الْخَازِنَ لِعِلْمِيَ الْحَسَنَ وَ أُكْمِلُ ذَلِكَ بِابْنِهِ م ح م د رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ عَلَيْهِ كَمَالُ مُوسَي وَ بَهَاءُ عِيسَي وَ صَبْرُ أَيُّوب۔
۔ اس سے ایک فرزند دنیا میں آئے گا کہ جس کا نام حسن ہو گا کہ وہ لوگوں کو میری راہ کی طرف دعوت کرے گا اور وہ میرے علم کا خزانے دار ہو گا۔ پھر میں اپنے دین کو اسکے بیٹے، م ح م د ، کہ وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہوگا، کے ذریعے سے مکمل کروں گا۔ اسکے پاس موسی کا کمال، عیسی کی نورانیت اور ایوب کا سا صبر ہو گا۔
(الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج1 ص 527 ، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.)
(الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، عيون اخبار الرضا (ع)، ج2، ص 50، تحقيق: الشيخ حسين الأعلمي، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات ـ بيروت ، 1404هـ ـ 1984م)
اس روایت میں حضرت مہدی (عج) کو رحمۃ للعالمین کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، اب کیسے ہو سکتا ہے کہ جو رحمۃ للعالمین ہو، وہ ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کرے گا؟
ایک دوسری روایت میں علامہ مجلسی نے کتاب الهدايۃ الكبری میں ذکر کیا ہے کہ مفضل ابن عمر اور اس نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمانے کے بعد اہل مکہ سے خطاب کریں گے کہ:
فَلَوْ لَا أَنَّ رَحْمَةَ رَبِّكُمْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ءٍ وَ أَنَا تِلْكَ الرَّحْمَةُ لَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ مَعَكُمْ فَقَدْ قَطَعُوا الْأَعْذَارَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ اللَّهِ وَ بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ فَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِم .
اگر تمہارے پرودگار کی وسیع رحمت نہ ہوتی کہ جس نے تمام چیزوں کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے اور میں اس رحمت کا مظہر نہ ہوتا تو، میں خود تمہارے ساتھ انکی طرف پلٹ جاتا، کیونکہ وہ کلی طور پر خداوند سے اور مجھ سے دور ہو گئے ہیں اور ہر طرح کے تعلق کو قطع کر دیا ہے۔
(المجلسي، محمد باقر (متوفي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج 53، ص11، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء – بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ – 1983م.)
اس روایت کے مطابق حضرت حجت (عج) نے اپنے آپکو خداوند کی وسیع رحمت کا مظہر قرار دیا ہے، لہذا قابل قبول نہیں ہے کہ وہ ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کریں گے۔ (اقتباس)

باقی آئندہ ان شاءاللّٰہ

یزید وقت کی نسلوں پہ وار کرتے رہو
منافقـــــــوں کی قبا تار تار کرتے رہو
یزید وقت سے لڑنا، ہے نصرت مہدی(عج)
یہی نہیں کہ فقط انـــــــتــــــظار کرتے رہو
ضرور ہوگا ظہورِ امامْ حق اک روز
تم اپنے دل کو ذرا بـــــیقرار کرتے رہو

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں