گزشتہ سے پیوستہ:
کیا یہ حقیقت ہے کہ امام زمان (عج) ظہور کرنے کے بعد ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کریں گے ؟
یہ روایات سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور ان جیسی ضعیف روایات سے استناد اور استدلال کرنا، یہ بات اس انسان کے حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بغض ، کینے اور اس شخص کی جہالت پر دلالت کرتی ہے
جواب سوم: حضرت مہدی (ع) قوانين اسلام کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔
تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پروردگار کے نزدیک پسندیدہ دین فقط اسلام ہے اور اسی دین کے بارے میں پروردگار لوگوں سے قیامت کے دن سوال کرے گا۔
جس طرح کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ:
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ.
اللّٰہ کے نزدیک دین فقط اسلام ہے۔
(سوره آل عمران آيت 19)
اور اسی سورہ میں ایک دوسری جگہ پر ہے کہ:
وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلامِ ديناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَ هُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرينَ.
اور جو بھی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اختیار کرے گا، تو اس سے اسکو قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔
(سوره آل عمران آيت 85)
دوسری طرف سے پروردگار نے قرآن میں بار بار مسلمانوں کو وعدہ دیا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا اور تمام ادیان پر غالب آ جائے گا۔
جیسا کہ ارشاد ہوا ہے کہ:
هُوَ الَّذي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدي وَ دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدِّينِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُون .
وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے، اگرچہ یہ کام مشرکین کو پسند نہ بھی ہو تو۔
(سورہ توبہ آیت33 سورہ صف آیت 9)
ایک دوسری جگہ پر ارشاد ہوا ہے کہ:
هُوَ الَّذي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدي وَ دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدِّينِ كُلِّهِ وَ كَفي بِاللَّهِ شَهيداً.
وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے، اور اس کام کے لیے خداوند کا ہی گواہ ہونا کافی ہے۔
(سوره فتح آيت 28)
اہل تشیع اور اہل سنت کی روایات کے مطابق پروردگار کا یہ وعدہ، حضرت مہدی (ع) کے ظہور کے زمانے میں عملی طور پر پورا ہو گا اور وہ امام ہی دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کریں گے اور پوری دنیا میں فقط شریعت خالص محمدی کی اتباع اور اس پر عمل کیا جائے گا۔
اہل سنت کے علماء نے مفسر بزرگ اسلام سدّی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
وقال السُدِّي : ذلك عند خروجِ المهديِّ ، لا يَبقي أحدٌ إلا دَخَلَ في الإسلامِ أو أدَّي الخِراجَ .
سدّی نے کہا ہے کہ: یہ کام عملی طور پر ظہور مہدی کے زمانے میں انجام پائے گا کہ تمام کے تمام لوگ دین اسلام کی پیروی کریں گے یا جزیہ دیں گے ( وہ مال جو کفار سرزمین اسلام میں رہنے کے عوض میں ادا کرتے ہیں)
الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج16 ، ص33، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ – 2000م.
الأنصاري القرطبي، ابو عبد الله محمد بن أحمد )(متوفي671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج8 ، ص121، ناشر: دار الشعب – القاهرة.) (اقتباس)
باقی آئندہ ان شاءاللّٰہ
یزید وقت کی نسلوں پہ وار کرتے رہو
منافقـــــــوں کی قبا تار تار کرتے رہو
یزید وقت سے لڑنا، ہے نصرت مہدی(عج)
یہی نہیں کہ فقط انـــــــتــــــظار کرتے رہو
ضرور ہوگا ظہورِ امامْ حق اک روز
تم اپنے دل کو ذرا بـــــیقرار کرتے رہو
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
