لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (آلِ عمران / 92)
تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راسِ خدا میں انفاق نہ کرو اور جو کچھ بھی انفاق کرو گے خدا اس سے بالکل باخبر ہے
تفسیر:
مومن کے لیے مال ایک بہترین وسیلہ ہے، جس کے ذریعے وہ نیکی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو سکتا ہے۔ اس آیت نے بتایا کہ اگر اللّٰہ سے محبت ہو تو دنیا کی کوئی چیز اس کے مقابلےمیں عزیز نہ ہو گی۔ اگر کسی کے دل میں دنیا کی کوئی چیز حبِ پروردگار پر غالب آ جائے تو وہ سمجھ لے کہ نیکی کے مقام پر فائز نہیں ہے۔ تمام نیکیوں میں انفاق مال کو ایک اہم خصوصیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ انفاق مال کو بہت پسند فرماتا ہے۔ حتیٰ کہ ائمہ علیہم السلام کی عظیم نیکیوں میں خصوصی طور پر ان کے انفاق کو پسند فرمایا۔ چنانچہ خود رکوع سے زیادہ رکوع میں دی جانے والی زکوٰۃ کو درجہ دیا گیا۔
مِمَّا تُحِبُّوۡنَ: جو چیز خود تمہاری اپنی پسند کی ہو اسے راہ خدا میں خرچ کرے تو مقام بِرْ پر فائز ہو گا۔ یعنی یہ مقام اس کو ملے گا جو اپنی پسند پر اللّٰہ کی پسند کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر ناکارہ اور ردی چیز دے دی جائے تو اس میں کوئی ایثار کارفرما نہ ہو گا۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا:
وَ لَا تَیَمَّمُوا الۡخَبِیۡثَ مِنۡہُ تُنۡفِقُوۡنَ وَ لَسۡتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّا اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِیۡہِ ۔ (البقرہ: 267)
اس میں سے ردی چیز دینے کا قصد ہی نہ کرو اور (اگر کوئی وہی چیز تمہیں دے دے تو) تم خود اسے لینا گوارا نہ کرو گے مگر یہ کہ چشم پوشی کرو۔
یہ ہے بِرّ یعنی نیکی کا مقام اور اولیاء اللہ کاجذبہ ایثار۔
امام صادق (ع) سے روایت ہے:
اَلْبِرُّ وَ حُسْنُ الْخُلْقِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارَ وَ یَزِیْدَانِ فِی الْاَعْمَارِ ۔
(اصول الکافی 2: 100۔ باب حسن الخلق)
نیکی اور حسن خلق مملکت کی ترقی اور عمروں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اللّٰہ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر برتری حاصل ہو تو یہی مقام بِر ہے۔ (تفسیر الکوثر)
اے خدا ایں بندہ را رسوا مکن
گر بدم ہم سرِّ من پیدا مکن
(مولانا رومی)
(اے خدا اس بندے کو رسوا نہ کر -اگر برا بھی ہوں تو میرا راز (مخلوق پر ) ظاہر نہ ہونے دے )
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “