پندرہ شعبان کو ہم صبح سے انتظار کررہے تھے ایک جملے کا کہ کوئی کہے کہ ظہورِ امام عج مبارک ہو خدا خدا کرتے وہ گھڑی آگئی
کال آئی کہا گیا کہ:
آپ کو ظہورِ امامِ زمانہ عج مبارک ہو
ہم نے ایکدم چونک کے سوالات کی بوچھار کردی:
کیا؟ ہوگیا ظہور؟ کب ہوا؟ کہاں ہوا؟ کیسے پتہ چلا؟
کہنے والی ایک دم چپ تھوڑی دیر بعد گویا ہوئیں کہ نہیں نہیں امام عج کی ولادت مبارک ہو وہ ہر ایک کا ظہور کہتے ہیں نا تو ان کے لئے بھی نکل گیا منہ سے ۔۔۔
(استغفراللّٰہ )
کیا کہیں اس جہالت کو؟
ہم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں جس میں بدقسمتی سے دین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور نئے سے نیا مسئلہ پیدا کیا جا رہا ہے۔چنانچہ ایسے ہی کچھ سالوں سے ایک فتنہ چلا ہوا ہے کہ معصومینؑ کی ولادت نہیں ہوتی بلکہ انکا ظہور یا پھر نزول ہوتا ہے۔ اور آج جب امامِ زمانہ عج کی ولادت کا دن آیا تو ظہور نہیں ولادت ہوگئی
کیوں؟
کیا یہ امام نہیں؟ جبکہ گیارہ اماموں اور اہل بیتِ رسول کے لئے مسلسل ظہور ظہور کی گردان تھی
خدارا ہوش کے ناخن لیں یہ ایک سازش ہے ہمیں مرکز سے گمراہ کرنے کی تاکہ اتنا ظہور ظہور ظہور کا شور ہو کہ جب کہا جائے کہ امام زمانہ عج کا ظہور ہوگیا تو لوگ آرام سے بیٹھیں رہیں کہ پیدا ہونے کا کہا جارہا ہے
آئمہْ نے فرمایا ہے کہ ہم اپنی ماؤں کے صلب میں ہوتے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق (ع) کے ایک انتہائی قابل قدر صحابی امام موسی کاظم (ع) کی ولادت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
ذکرت انہ سقط من بطنھا حین سقط و اضعا یدیہ علی الارض۔
"جب وہ بطن سے جدا ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی طرف اٹھایا۔”
(الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ 385 طبع بیروت)
یہ ایک طویل واقعہ ہے اور اس میں یہ اتنے بڑے صحابیِ امام بار بار ولادت کا لفظ بھی استعمال کر رہے ہیں اس کے علاوہ امام نے حمل کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔
بصائر الدرجات میں امام کے اسی قسم کے 11 فرامین ہیں
خدارا کوئی نیا دین ایجاد نہ کریں
ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذّتِ کردار، نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جُرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِِ تحقیق!
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
(علامہ اقبال)
آخر میں آپ سب کے لئے ایک انتہائی سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ پیش کر رہے ہیں
امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ایک شخص حلال طریقے سے دنیا کمانا چاہتا تھا لیکن اس پر قادر نہ ہوااور حرام طریقے سے دنیا کمانے لگ گیا۔ لیکن اس پر بھی قادر نہ ہوا اس کے پاس شیطان نے آ کر کہا اے شخص تم نے دنیا کو حلال طریقے سے کمانا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکے اور جب حرام سے کمانا چاہا تب بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی کیا میں تجھے ایسا طریقہ نہ بتاوں جس سے تیرا مال ودنیا ذیادہ ہو جائےاور تیرے چاہنے والوں کی بھی کثرت ہو کہنے لگا کیوں نہیں غرور بتاو۔ شیطان نے کہا ایک نیا دین ایجاد کر لو اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دو اس شخص نے ایسا ہی کیا ۔ لوگ جوق در جوق اس کے پاس آنے لگے اور اس کی اطاعت کرنے لگے اور اس کی دنیا بھی آباد ہو گئی۔ پھر جب اس نے غور و فکر کیا تو خود سے کہنے لگا میں نے بہت برا کیا ہے۔ ایک نیا دین بھی گھڑا ہے اور لوگوں کو اس دین کی دعوت بھی دی ہے اور اب توبہ کا ایک ہی راستہ ہے کہ جب لوگ میرے پاس آئیں تو انہیں واپس بھیج دوں۔ بہرحال جونہی اس دعوت پر لبیک کہنے والے اس کے پاس آتے تو وہ کہتا جس چیز کی طرف میں نے تمھیں دعوت دی ہے وہ میں نے خود گھڑا ہے۔ وہ کہتے تم جھوٹ بول رہے ہوتمھارا دین حق ہے صرف اتنا ہوا کہ تم اس دین میں شک کر بیٹھے اور اب واپس لوٹنا چاہتے ہو ۔ اس وقت اس نے زمین میں میخ ٹھونک کر اس کے ساتھ زنجیر باندھ لی اور اپنی گردن میں ڈال دی اور کہا کہ جب تک مجھے اللّٰہ معاف نہیں کرے گا میں اسے اپنی گردن سے نہ نکالوں گا۔ اللّٰہ نے اپنے انبیاء میں سے ایک نبیٌ کی طرف وحی کی کہ اس کے پاس جا کر کہو کہ اللّٰہ کہتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم اگر تم مجھے اتنا پکارو کہ تمھارے بدن کے جوڑ علیحدہ ہو جائیں میں تب بھی تمہیں معاف نہ کروں گا البتہ جنہوں نے تمھارا دین اختیار کیا تھا اور اب مر چکے ہیں انہیں زندہ کر کے اس دین سے واپس لوٹا سکتے ہو تو تب میں تمہیں معاف کروں (یعنی تمھاری معافی نا ممکن ہے)”
(ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، شیخ صدوق، صفحہ 555ِ طبع قم)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”