*فطرت*

قرآن کی رو سے فطرت کی طرف پلٹنا نفسیاتی بیماریوں سے مقابلہ کرنے کا سب سے پہلا راستہ ہے ۔
فطرت کی طرف پلٹنا ہی انسان کے لئے ذہنی سکون کا ذریعہ ہے۔ فطرت وہی اصلی اور عالمگیر حقیقت ہے جو کسی ایک انسان یا کسی خاص زمانہ اور جگہ سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام انسانوں کے ساتھ مربوط ہے۔
قرآن کی نظر میں تمام ذہنی انحرافات فطرت کے انحرافات کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں؛

فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ※

پس (اے نبی) یکسو ہو کر اپنا رخ دین (خدا) کی طرف مرکوز رکھیں،(یعنی) اللّٰہ کی اس فطرت کی طرف جس پر اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللّٰہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے، یہی محکم دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ﴿الروم / 30﴾

اسی لئے اسلام میں ذہنی صحت کے لئے فطرت کی طرف پلٹنے کی سفارش ہوئی ہے۔

فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
(اعجاز رحمانی)

جو انسان فطرت سے خارج ہوتا ہےوہ اس مکڑی کی طرح ہے جو اپنی جال کو بنانے کے لئے اپنے گرد گھومتی ہے مکڑی جتنا کام زیادہ کرتی ہے بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔

اسی لئے ان لوگوں کے دل پر حجاب ہیں، نفس میں عیب، عقل ناکارہ ہے، خواہش غالب، عبادت کم اور گناہ بہت زیادہ ہیں۔(دعاے صباح)

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں