رزق کا مفہوم صرف کھانے پینے کی چیزیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں زندگی کی تمام مادی اور روحانی وسائل جو کسی شخصیت کی حیات کے لئے کافی ہیں وہ اس میں شامل ہیں۔اس میں کھانے پینے کی چیزیں، دھوپ، آکسیجن وغیرہ سب شامل ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللّٰہ رازق ہے چنانچہ اب انسان کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
رازق کا مطلب ہے عطا کرنے والا۔ چنانچہ اس عطا کرنے کا ایک ضابطہ مقرر کیا ہوا ہے۔ اس ضابطے میں دو چیزوں کی آمیزش ہے۔ پہلی اللّٰہ کی مشیت و حکمت اور دوسرا اسباب کا استعمال۔ اس میں فوقیت تو اللّٰہ کی مشیت اور حکمت ہی کو ہے لیکن اگر کسی روزی کے کمانے کے لئے اسباب کا استعما ل لازم ہے تو یہ شرط بھی پوری ہونی چاہئے۔مثال کے طور پر ایک دو ماہ کا بچہ اپنے لئے غذا کا خود بندوبست نہیں کرسکتا چنانچہ اس کے اسباب ماں اور باپ کی صورت میں اللّٰہ نے خود فراہم کردئیے ہیں یہاں تک کہ ماں غذا کو بچے کے منہ تک پہنچاتی ہے۔ دوسری جانب یہی بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اب اسباب کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے اور اسے غذا کے حصول کے لئے اس تک ہاتھ بڑھانا، اسے چبانا اور حلق تک خود اتارنا ہوتا ہے۔ جب وہ مزید بڑا ہو کر ماں باپ کے معاشی سہارے سے محروم ہوجاتا ہے تو رقم کے بندوبست کے لئے اسے ہی بھاگ دوڑ کرنی ہوتی ہے ۔ اگر وہ گھر پر بیٹھ جائے اور اس دو ماہ کے بچے کی طرح غذا کو منہ تک پہنچانے کی ذمہ داری اللّٰہ کو سونپ دے تو وہ اصل میں اللّٰہ کے رزق دینے کے نظام کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ البتہ وہ معاملات جو اس کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں ان میں اللّٰہ اُس کی مدد کرتا اور اسباب کی فراہمی کا خود بندوبست کرتا ہے۔
اس بحث میں اس سوال کا جواب بھی ہے کہ اگر اللّٰہ رازق ہے تو پھر لوگ بھوک سے کیوں مر جاتے ہیں؟
بے شک رزق کی فراہمی اللّٰہ کے ذمے ہے لیکن اگر اللّٰہ کی مشیت اور حکمت یہ ہے کہ امیر لوگوں یا قوموں کو آزمائے کہ وہ کس طرح غربت اور افلاس سے دم توڑتے لوگوں کو سے پیش آتے ہیں۔
آیا وہ انہیں مرنے دیتے ہیں یا آگے بڑھ کر انکی بھوک کو مٹانے کے اجتماعی اقدامات کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں اللّٰہ رزق کے وسائل امرا ء کو دے کر انہیں آزماتا ہے۔
خدا کا رزق تو ہرگز زمیں پر کم نہیں یارو
مگر یہ کاٹنے والے! مگر یہ بانٹنے والے!
(امجد اسلام امجد)
ایک اور سوال یہ ہے کہ اللّٰہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔
یہاں اس بیان سے یوں لگتا ہے کہ یہ تقسیم بلا کسی ضابطے اور قانون کے ہے۔ قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں۔ رزق کی فراہمی کا ایک ضابطہ ہے اور یہ ضابطہ اللّٰہ کی مشیت، حکمت،آزمائش کی اسکیم وغیرہ پر منحصر ہوتا ہے
اگر ہمارے رزق میں سے دوسروں کی ضروریات پوری
ہورہی ہے تو ہم خوش قسمت ہیں کہ
ہمارا رب ہمارا رزق پاک کررہا ہے !
پروردگار سے دعا ہے کہ ہم سب کے رزق کو بہتر فرما۔
اور ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرما:
آمین یا رب العالمین
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى“
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
