دین کامل کر دیا

اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ (المائدہ آیت 3 کا حصہ)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا※

اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا۔ یعنی اعلان امامت سے یہ دین مرحلۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔
جب رسول اللّٰہ نے بحکم خدا اپنے بعد اس دین کے محافظ کا تعارف کرایا تو اس دین کے لیے بقا کی ضمانت فراہم ہو گئی اور بقول صاحب المیزان ”یہ دین مرحلہِ وجود سے مرحلہِ بقا میں داخل ہو گیا۔“
یہاں سے کافر مایوس ہو گئے کہ یہ رسالت ایک فرد پر منحصر نہیں رہی، اب یہ دعوت ایک شخص کے مرنے سے نہیں مرتی۔ چنانچہ کفار کی مایوسی اور اکمالِ دین واقعہ غدیر خم سے مربوط ہے ۔
وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ: اس امت کو نعمت ولایت سے نوازا تونعمتوں کی تکمیل ہو گئی۔ کیونکہ اس کائنات میں سب سے بڑی نعمت توحید اور توحید کی تبلیغ، نبوت سے ہوئی اور اس کو تحفظ امامت سے ملتا ہے۔ اسلام مکمل ہے
اسلام ایک مکمل دین ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ یہ دنیاوی زندگی گزارنے کے لئے ایک ضابطہ فراہم کرتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو۔ اسلام کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب نا مکمل اور ادھورے ہیں، صرف اسلام ہی کامل دین ہے۔ قرآن کریم اسلام کے کامل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ” آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا ہے اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا ہے”
دین اسلام ہر زمان ومکان کے ہر جن و انس کے لیے مکمل دستور حیات ہےجو زندگی کے تمام معاملات میں انسان کو اچھائی اور برائی ، نیکی و بدی اور حقوق فرائض کا شعور بخشتے ہوئے امن وسلامتی اور انسانی ترقی کی ضمانت فراہم کرتا اور ظاہری وباطنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے
اسلام ایک اعلی تہذیب ، ایک وسیع ثقافت اور مخصوص معاشرتی اوصاف کا حامل ہے
اور جب ایک مکمل ضابطہ حیات مل جاتا ہے تو اس میں تبدیلی نہیں آتی بلکہ مزید نکھار پیدا ہوتا جاتا ہے زمانے کے ساتھ ساتھ
اصول اسلام نے بتادیا ہے
اب معاشرے کے لحاظ سے قانون کا اطلاق ہوگا اسمیں تبدیلی ہوتی رہے گی ماحول اور معاشرے کے حساب سے اور اس کے لئے اجتہاد کی ضرورت ہے
‎دین اسلام انسانیت کے لیے اللّٰہ کی بڑی نعمت ہے۔ اس دین کے محافظ (امام ؑ) کے تعین سے اس نعمت کی تکمیل ہو گئی۔ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ ( خطبه رسول (ص) در غدیرخم) 🌹عیدِ غدیر مبارک 🌹

دوش پر آغوش میں پہلو میں حیدرْ کب نہ تھے
دستِ مرسلٌ پر بلندی کا مزا کچھ اور ہے
اہل رد و کد نے سو تفسیر کی اک لفظ کی
پر نہ سمجھے کہ نبیؐ کا مدعا کچھ اور ہے
سن کسی مجذوب سے ایک بار روداد‌ِ غدیر
خم کے منبر پر علیْ کا مرتبہ کچھ اور ہے
(عفت عباس)

‏‎آخر میں ہم دعا گو ہیں کہ خداوندعالم ہمیں صحیح معنوں میں سیرت معصومین علیہم السلام پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. (امین)

‏‎ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں