روزمرہ کی زندگی میں زیادہ تر جھگڑے غلط لہجے کی وجہ سے ہوتے ہیں، ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ خوبصورتی سے بولیں یا خاموش رہیں. اپنے لہجے میں نرمی لانے کی کوشش کریں، نرمی سے کی گئی بات اثر بھی رکھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں ہمارا مقام بھی بڑھاتی ہے جبکہ سخت لہجے میں کی گئی بات دوسرے کی انا کو بھی جگا سکتی ہے اور معاملہ الٹ بھی ہوجاتا ہے
پروردگار نے قرآن مجید میں جگہ جگہ تاکید کی ہے کہ
1- لہجے کو دلپسند ہونا چاہیے۔
الطّیّب مِنَ الْقَول
پاکیزہ گفتار
(سورہ حج، 24)
2- لہجے کو رسا اور شفاف ہوناچاہیے۔
قولاً بَلِیْغًا
ایسی باتیں جو مؤثر ہوں۔
(سورہ نساء، 63)
3- بات کو نرم لہجے میں بیان کیا جائے۔
قولاً لَیّنًا
نرم لہجے میں بات کرنا
(سورہ طہ، 44)
4- لہجے کا انداز بزرگوارانہ ہو۔
قَوۡلًا کَرِیۡمًا
عزت و تکریم کے ساتھ بات کرنا۔
(سورہ بنی اسرائیل ، 23)
5- لہجے کو قابل عمل ہونا چاہیے–
قَوۡلًا مَّیۡسُوۡرًا
نرمی کے ساتھ بات
(سورہ بنی اسرائیل، 28)
6- سب سے اچھی بات کی جائے نہ کہ فقط خاص گروہ کے لیے–
قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا
لوگوں سے حسن گفتار
(سورہ البقرہ، 83)
7- اپنے لہجے میں بہترین انداز اور مطالب کا انتخاب کیا جائے۔
یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ
وہ بات کرو جو بہترین ہو
(سورہ اسراء، 53)
ہم کوشش کریں کہ جب بولیں خوبصورتی سے اچھے اور نرم لہجے میں بولیں ہمیں اپنے لہجے میں قربتہ الی اللّٰہ نرمی اور خوبصورتی پیدا کرنا چاہئے
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
(افتخار عارف )
آخیر میں دعا گو ہیں کہ خداوندعالم ہمیں صحیح معنوں میں قرآن و سنت و اہل بیت کی راہ پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. (امین)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
