ایسے تو کوئی ترکِ سکونت نہیں کرتا
ہجرت وہی کرتا ہے جو بیعت نہیں کرتا
(عباس تابشؔ)
تاریخِ اسلام کے مطالعہ کے بعد یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ ،اسلام کی فروغ میں ’ہجرت‘ اور ’جہاد‘ کا نمایاں کردار رہا ہے۔اسلام کی کامیابی کے یہ دو اساسی عنصر ہیں جس کی بنا پر اسلام دنیا بھر میں پھیلا۔اسی طرح آج بھی اسلام کی تبلیغ اور بقاء کے لیئے ، اسلام کے راستوں سے موانع دور کرنے کے لئے اور پوری دنیا میں اسلام کا پیغام نشر کرنے کے لئے ’ہجرت‘ اور ’جہاد‘ بہت ضروری عناصر ہیں۔ جس طرح سے ہجرت کا صحیح معنیٰ اور مفہوم واضح ہونا ضروری تھا ویسے ہی ’جہاد‘ کا صحیح معنیٰ اور مفہوم واضح ہونا ضروری ہے ۔
امام حسین علیہ السلام کا سفر ایک تاریخی حادثہ نہیں ہے جس طرح کربلا ایک تاریخی حادثہ نہیں ہے بقول رہبر انقلاب اسلامی
"کربلا ایک تاریخی حادثہ نہیں ایک تمدن ہے ایک ایسی تہذیب سے عبارت ہے، جس نے دائمی تحریک کی صورت امت اسلامی کے لئے سرمشق کا کام کیا ہے۔ (عاشورا یک حادثهی تاریخىِ صرف نبود؛ عاشورا یک فرهنگ، یک جریان مستمر و یک سرمشق دائمی برای امت اسلام بود.» ۱۳۸۴/۱۱/۵)
اور کربلا کا عظیم تمدن کا وارث ہونا ایک لازوال تہذیب کا ترجمان ہونا، امام حسین علیہ السلام کے اہتمام سفر سے واضح و آشکار ہے۔
حسینؑ حوصلۂ انقلاب دیتا ہے
حسین شمع نہیں آفتاب دیتا ہے
(سنت درشن سنگھ)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
” روبی عابدی”
