”اسوہ حسین علیہ السلام “

واقعہ کربلا سچائی کی خاطر ڈٹ جانے اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کی لازوال داستان ہے جو تاقیامت اہل ایمان کے لئے مشعل راہ ہے – میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور اور ان ساتھیوں نے باطل کا مقابلہ کرکے ثابت کردیا کہ حق کی بالادستی قائم کرنے کےلئے باطل معبودوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانا ہی اہل ایمان کی شان ہے ۔
ہر ماہِ محرم ہمیں یاد دہانی کرواتا ہے کہ دین کی بالادستی اور نظریات کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
ماہ محرم شہدائے کربلا کے نقش قدم پر چلنے کا درس دیتا ہے –

اسوہ پہ آپ ہی کے ٹھہرتی ہے یہ نظرؔ
فتنے یزیدیت کے جہاں دیکھتے ہیں ہم
(نظر لکھنوی)

ہمیں شہداء کربلا کی قربانیوں اور استقامت پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ عہد کرنا ہوگا کہ معاشرے میں عدل و انصاف کے لئے اسوہ حسین علیہ السلام کو بطور رول ماڈل اپنانا ہے۔
تاریخِ اسلامی قربانیوں کی ایک زنجیر سے عبارت ہے – روز اول سے ہی انبیاء اسلام کی سر بلندی کے لئے جان و مال قربان کرتے رہے جسے میدان کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے از سر نو زندہ کیا۔ ظلم و زیادتی کے خلاف جہاد کی تڑپ دلوں میں زندہ رکھنا، حق پر ثابت قدمی سے ڈٹ جانا، باطل سے سمجھوتہ نہ کرنا ہی امام حسین علیہ السلام کے سنہری اصول ہیں ۔شہدائے کربلا راہ حق کے تمام قافلوں کے لئے یہ پیغام چھوڑ گئے کہ فتح کا دارومدار اکثریت یا اقلیت پر نہیں بلکہ نظریہ اور نصب العین کی سچائی پر ہوتا ہے۔ امام عالی مقامْ نے کلمہ حق بلند کرکے اپنے نانا کے دین کی حفاظت کا حق ادا کر دیا ۔امت مسلمہ آج مجموعی طور پر جن آزمائشوں اور مغلوبیت کا شکار ہے,
ان کا حل اسوہ امام حسین علیہ ‎السلام کی پیروی میں ہے –

عرصہِ دراز سے جو روش بَین، َبین ہے
سچ بولنا گناہ ہے؟ نہیں فرضِ عین ہے
دنیا سےاٹھ گیا یوں سکوں اور چین ہے
جنت اگر جو چا ہیئے اسوہ حسینْ ہے

پروردگار ہمیں امامْ کے اسوہ کو سمجھنے کی توفیق دے
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
‎التماسِ دعا
” روبی عابدی”

تبصرہ کریں