اب نہ گھبراؤ کہ مٹنے کو ہے ظالم کا وجود
خونِ مظلوم دکھائے گا اثر اب کے برس
ان شاءاللّٰہ
اعتدال عدل سے ہے اور انتہا پسندی ظلم سے۔
عدل کی تعریف یہ ہے کہ ہر شے کو اس کے اصل مقام پر رکھاجائے۔ عدل کااُلٹ ظلم ہے۔
راہِ اعتدال سے منحرف ہوکر ہم افراط وتفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ افراط و تفریط باعثِ ہلاکت ہے۔
وہ مظلوم ہیں؟؟؟
وہ غاصب ہیں، مظلوم نہیں ظالم ہیں،
جارح ہیں، جاہل ہیں، ہرزہ سرائی ہے ،
مظلوم نہیں ظالم ہیں
اور کوئی بھی اس شیطان صفت دیو کو مظلوم بناکے نہیں پیش کرسکتا
ظالم بہادر نہیں ہوتا ہمارا ڈر اسے بہادر بناتا ہے
یوں ہی ظالم کا رہا راج اگر اب کے برس
غیرممکن ہے رہے دوش پہ سر اب کے برس
جسم بوئیں گے ستم گار اناجوں کی جگہ
اور فصلوں کی طرح کاٹیں گے سر اب کے برس
ذہن سے کام لو اور موڑ دو طوفان کا رخ
ورنہ آنسو میں ہی بہہ جائیں گے گھر اب کے برس
جانے کس وقت اجل آپ کو لینے آ جائے
ساتھ ہی رکھیے گا سامان سفر اب کے برس
نخل حسرت کو نہ اشکوں کی نمی دو ورنہ
اور مہکے گا گل زخم جگر اب کے برس
اب نہ گھبراؤ کہ مٹنے کو ہے ظالم کا وجود
خونِ مظلوم دکھائے گا اثر اب کے برس
(رعنا مورانوی)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
