زندگی آسان نہیں ہوتی، اسے آسان بنایا جاتا ہے
کچھ صبر کرکے،
کچھ برداشت کرکے،
اور بہت کچھ نظر انداز کرکے۔
بقول شخصے:
ہم سے سوال جتنی بھی بدتمیزی سے پوچھا جائے اسکا جواب ہم تمیز سے دیں کیونکہ تاریخ وہ سوال محفوظ نہیں کرے گی لیکن ہمارا جواب ضرور محفوظ رکھے گی
کیونکہ اگر سائل کو سمجھ میں نہیں بھی آئے تو بعد میں کسی کو تو سمجھ آجائے گا کیونکہ تاریخ نے محفوظ رکھا ہوگا
اس لئے جواب تحمل اور تمیز سے دینا ہی سمجھداری ہے
نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو
پھر بصد شوق سر عام مجھے مات کرو
یا نثار آج کرو مجھ پہ تمام اپنے ہنر
یا نظر بند مرے سارے کمالات کرو
میں روایات سے باغی تو نہیں ہوں لیکن
تم سے ممکن ہو تو تبدیلِ خیالات کرو
(رفیق)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
