قرآن میں سَمِعۡنَا سے قبول و تصدیق اور پ سے اطاعت و فرمانبرداری کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ ایمان کی حقیقت یہی ہے کہ اقرار باللسان اور عمل بالارکان ہو۔
وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ
﴿البقرہ /285 آیت کا آخری حصہ ﴾
(اور کہتے ہیں: ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی،پالنے والے ہم تیری بخشش کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔)
رب کی بندگی بھی اقرار و اطاعت سے عبارت ہے۔
ایمان درحقیقت زبان سے اقرار اور اعضا و جوارح سے عمل کرنے کا نام ہے۔
جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں
وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں
(عاطف ملک)
عبد پر اللّٰہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی تصدیق، اقرار اور اطاعت کرے۔ چنانچہ اللّٰہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ
وہ انہیں معاف کرے اور بخش دے۔
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
