صاحبانِ عقل

وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّا اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
“صاحبان عقل ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔”
یعنی حکمت، تذکر اور نصیحت آموزی پرموقوف ہے اور یہ بات عقل و خرد پر موقوف ہے۔ لہٰذا حکمت عقل و فہم پر موقوف ہے۔
۱۔ حکمت بزور بازو نہیں بلکہ توفیق خداوندی سے حاصل ہوتی ہے:
یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ
وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جسے حکمت دی جائے گویا اسے خیر کثیر دیا گیا ہے
۲۔ حقائق سے بہرہ مند ہونے کے لیے عقل ومنطق سے کام لینے کی ضرورت ہے:
وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاؔ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
﴿البقرہ / 269﴾
اور صاحبان عقل ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔

رَأسُ الْحِکْمَۃِ مَخَافَۃُ اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ ۔
{الفقیہ ۴ : ۳۷۶}
حکمت کی روح خوف خدا ہے۔

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے!
(علامہ اقبال)

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں