فرض

رسول اللّٰہ (ص) سے مروی ہے:

اِذَا ظَہَرَتِ الْبِدَعُ فِیْ اُمَّتِیْ فَلْیُظْھِرِ الْعَالِمُ عِلْمَہٗ فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہ ۔
{اصول الکافی ۱ : ۵۴ ۔باب البدع}

میری امت میں جب بدعتیں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو عَالِم پر فرض ہے کہ وہ اپنے علم کا اظہار کرے، وگرنہ اس پر اللّٰہ کی ل ع ن ت ہے۔

قرآن میں اللّٰہ کا فرمان:

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ
﴿البقرہ /159﴾
جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم کتاب میں انہیں لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر چکے ہیں، تو ایسے لوگوں پر اللّٰہ اور دیگر ل ع ن ت کرنے والے سب ل ع ن ت کرتے ہیں۔

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ
﴿البقرہ /160﴾
البتہ جو لوگ توبہ کر لیں اور ( اپنی) اصلاح کر لیں اور (جو چھپاتے تھے اسے) بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کروں گا اور میں تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہوں۔

۱۔ دینی حقائق کو چھپانے والے ملعون ہیں:
یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ ۔

۲۔ لوگوں کو بھی چاہیے کہ ان پر ل ع ن ت بھیجیں:
وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ۔

۳۔ ل ع ن ت سے بچنے کاطریقہ یہ ہے کہ توبہ و اصلاح کے ساتھ ان حقائق کو آشکار کریں۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا
(تفسیر الکوثر)

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں