قرآن مجید کی لغت میں ، لفظ مسلمان صرف پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیه وآله وسلم کے سلسله میں استعمال نهیں ہوا ہے،
بلکه اسلام وسیع معنی ( لغوی معنی) میں اللّٰہ کے فرمان کے سامنے تسلیم محض اور ہر قسم کے شرک دو گانگی پرستی سے مکمل اور خالص توحید ہے اور اسی وجه سے قرآن مجید میں حضرت ابراھیم علیه السلام کو مسلمان کے عنوان سے پہنچوایا گیا ہے-
مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ
وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ
﴿آلِ عمران / 67﴾۔
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ وہ یکسوئی کے ساتھ مسلم تھے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہ تھے۔
مسلم استی بی نیاز از غیر شو
اہل عالم را سراپا خیر شو۔
(رموزِ بیخودی، علامہ اقبال)
ترجمہ:
اگر مسلمان ہو تو (اللّٰہ کے سوا) ہر شے سے بے نیاز ہوجا۔
اور دنیا کے لئے خیر و برکت کا سر چشمہ بن جا
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
