“بغض وکینہ”

سب دل سے یہاں تیرے طرفدار نہیں ہیں
کچھ صرف میرے بغض میں بھی آئے ہوئے ہیں
(فریحہ نقوی)

بغض و کینہ سے بچنے کا علاج:
(1)۔ ایمان والوں کے بغض سے بچنا
وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠
(الحشر /10)
“اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ / بغض نہ رکھ اے رب ہمارے بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔”

(2)۔ اسباب دور کرنا۔ “یقیناً بیماری جسمانی ہو یا روحانی اس کے کچھ نہ کچھ اسباب ہوتے ہیں اگر اسباب کو دور کردیا جائے تو بیماری خود بخود ختم ہوجاتی ہے، ایک سبب نعمتوں کی کثرت بھی ہے کہ اس سے بھی آپس میں بغض وکینہ پیدا ہوجاتا ہے، نعمتوں کا شکر ادا کرکے اور سخاوت کی عادت کے ذریعے اس سے بچنا ممکن ہے۔

(3)۔ سلام ومصافحہ کی عادت بنا نا۔ سلام میں پہل کرنا اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا یا گلے ملنا ہمارے کینے کو ختم کردیتا ہے، نیز تحفہ دینے سے بھی محبت بڑھتی اور عداوت دور ہوتی ہے۔

(4)۔ بے جا سوچنا چھوڑ دیں۔ “عموماً کسی کی نعمتوں کی بارے میں سوچنا یا کسی کی اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کے بارے میں سوچتے رہنا بھی کینے کے پیدا ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا کسی کے متعلق بے جاسوچنے کے بجائے اپنی آخرت کی فکر میں لگ جائیں کہ یہی دانش مندی ہے۔

(5)۔ مسلمانوں سے اللّٰہ کی رضا کے لیے محبت کرنا۔
“محبت کینے کی ضد ہے لہٰذا اگرہم رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت رکھیں گے تو کینے کو دل میں آنے کی جگہ نہیں ملے گی اور دیگر فضائل بھی حاصل ہوں گے۔

(6)۔ سوچنا اور عقلمندی سے کام لینا ۔
“ کینے کی بنیاد عموماً دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کو برباد کرلینا دانشمندی ہے۔یقیناً نہیں تو پھر اپنے دل میں کینے کو ہرگز جگہ نہیں دیں۔

پروردگار ہم سب کو سوچنے سمجھنے اور ادراک کرنے کی توفیق عطا فرما آمین یا رب العالمین

”وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى“
(سورہ طہ-47)
”التماسِ دعا “
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں