بعض روایات کے مطابق شیطان کے قیدی بن جانے کا اصلی سبب روزہ ہے۔یعنی یہ روزہ ہے جو شیطان کو قیدی بناتا ہے اورانسان گمراہی سے بچ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گناہ نہیں کرتا۔شاید اسی لئے روزہ کو جہنم سے بچنے کی سپر کہا گیا ہے۔اللہ کے رسول(ص)فرماتے ہیں: شیطان خون کی طرح انسان کے وجود میں سرایت کرتا ہے،اس لئے بھوک کے ذریعہ اس کے سرایت کرنے کی جگہ کو بند کردو۔ شیطان اسی حد تک ایک انسان سے دور ہوتا ہے جتنا اس کے روزے کا اس پر اثر ہوتا ہے۔اب اگر ایک انسان روزہ رکھتا ہی نہیں ہے یا حقیقی روزہ کے آداب کی رعایت نہیں کرتا تو شیطان اس سے دور نہیں ہے۔
رمضان میں شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں، تاکہ ہمیں یہ معلوم ہوسکے کہ ہمارے اچھے اور برے اعمال کرنے میں ہمارا اپنا اور شیطان کا کتنا ہاتھ ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کو وہی انسان اپنے ارادے سے قید کرتے ہیں جو اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔
ہم نے شیطان کو رمضان میں آزاد دیکھا
سحری سے قبل ڈھول کی تیز گونج میں سنا
فجر سے ذرا پہلے گہری نیند کے غلبے میں ڈوبتے دیکھا
افطار سے پہلے شیطان کو سموسوں پکوڑوں
کی دکانوں پر رش میں دیکھا
سڑکوں پر ٹریفک کے
رش میں گالیاں دیتے ہوئے دیکھا
دس دن پانچ دن کی نماز پڑھ کر
اپنی دکانیں کھولنے کی جلدی میں دیکھا
اشیا کی قیمتیں ڈبل کرتے ہوئے دیکھا
رمضان میں درزیوں کی شکل میں دیکھا
رمضان میں پیٹ کی
بیماریوں کی شکل میں دیکھا
زکوة کو سب کے سامنے بانٹتے ہوئے دیکھا
ہم نے اپنے اندر دیکھا اور باہر دیکھا
اس شیطان سے چھپ کر
خود کو قید ہوتے دیکھا !
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
”روبی عابدی“
