صوم میں کس طرح گزاریں؟

پروردگار نے تو پوری کائنات کو ہمارے قابو میں دیا ہے اس کائنات کا ایک حصہ ہم ہیں تو پہلے ہم اپنے آپ میں اس گرفت کو سمجھیں اور اس مہینے میں اس گرفت اور قابو پہ خوب اچھی طرح ایکسرسائز کرلیں تاکہ کائنات پہ گرفت کے اصول و ضوابط ہمیں سمجھ میں آسکیں، یہ ہے * فَلۡیَصُمۡہُ*
اپنے عقل کی رفتار کو اپنے کنٹرول میں لے لیں، اپنے آنکھوں کی لپک کو، اپنے ہاتھوں کی حرکت کو، اپنے سونگھنے کی حس کو، اپنی گفتگو کے انداز کو، اپنی چال ڈھال کو، اپنے اندازِ برخاست کو، اپنی حرکات و سکنات ( body language ) کو، اپنے فکری خیالات کو، ان سب کو اسطرح اپنی گرفت میں کرلیں کہ اس سے سوائے محبت کے، سوائے عزت و کرامت کے، سوائے رحمت کے، سوائے عفو درگزر کے، سوائے اللّٰہ کی مخلوقات کی مدد و نصرت کے، سوائے اللّٰہ کی نصرت کے اور کوئی جذبہ اور کوئی عمل اور کوئی صفت اور کوئی بات ہمارے اندر پیدا ہی نہ ہو ایسے بن جائیں اس شھر رمضان کی بدولت۔

  • یہ ہے صوم کا مطلب*
    کہ ہر چیز ہماری گرفت میں ہو، اور جب ہر چیز ہماری گرفت میں ہوگی تو پھر ہمیں اس بات کا ادراک ہوگا کہ اللّٰہ نے کائنات اور فرستوں کو کیسے ہماری گرفت میں دیا ہے اور جب یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے گی تو بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں آجائیں گی۔

وہ کون سی باتیں ہیں جو ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آئیں اور اگر ہم اپنے وجود کی ہر چیز آنکھوں کی چمک گفتگو کی لطافت و شیرینی اپنے ہر ہر ایکشن کو اپنی گرفت میں لے لیں اور اس سے دوسروں کو فیضیاب کریں جب ہم ان سب پہ عمل پیرا ہوں تو

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (الجاثیہ / 13)
(اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کیا،)

وہ بات جو اس 👆 میں پوشیدہ ہے ہم اسے سمجھ جائیں گے

دل ناداں سمجھ جائے گا لیکن
دل ناداں کو سمجھانا پڑے گا
بڑا بد راہ ہے چرخ ستم گر
اسے اب راہ پر لانا پڑے گا
(وفا)

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں