عبادت! خالص اطاعت و فرمانبرداری کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں بندہ اپنے آپ کو اپنے خالق کے اختیار میں دیکھتا ہے۔
الَّذِیۡۤ اَحَلَّنَا دَارَ الۡمُقَامَۃِ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا لُغُوۡبٌ۔
جس نے اپنے فضل سے ہمیں دائمی اقامت کی جگہ میں ٹھہرایا جہاں ہمیں نہ کوئی مشقت اور نہ تھکاوٹ لاحق ہو گی۔ [سورہ فاطر، آیہ 35۔]
اس معنی میں عبادت ایک خاص حالت ہے جو ہمارے اندر پیدا ہوتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس ہستی کا نیازمند
اور اس کے اختیار میں پاتے ہیں جس نے ہمیں خلق کیا ہے۔
علامہ طباطبائی نے حقیقتِ عبادت کو اس بات میں جانا ہے کہ بندہ خود کو مقام ذلت و عبودیت میں قرار دے اور ہر دوسری چیز سے کٹ کر اپنے پروردگار کی یاد میں رہے اور اسی کا ذکر کرتا رہے۔[طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱۸، ص۳۸۸۔]
دنیا میں بحرؔ کون عبادت گزار ہے
صوم و صلٰوۃ داخل رسم و رواج ہے
(امداد علی بحر)
عبودیت و بندگی ایک ایسا جوہر اگر انسان اسے پالے تو وہ اپنے رب تک پہنچ جاتا ہے:
”العبودیّة جوهرة کنهها الرّبوبیّة “۔
(حدیث قدسی)
عبادتوں کو شریعت میں اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ انسان اللّٰہ سے قریب ہوسکے اور اس کا بندہ محض بن سکے۔
اور بقول آیت اللّٰہ حسن زادہ آملی:
کثرت عبادت کبھی کبھی انسان کو مغرور بنا دیتی ہیں۔ جس طرح شیطان نے 6 ہزار برس اللّٰہ کی عبادت کی لیکن وہ اپنے جوہر عبودیت کو نہ پہچان سکا آخرکار اسے مردود ہوکر بارگاہ الہی سے نکلنا پڑا۔ (اقتباس)
سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
(علامہ اقبال)
دعا ہے کہ پس ہم عبادت اس وجہ سے کریں کہ ہم اللّٰہ کے عبد محض بن سکیں۔
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
“روبی عابدی”
